
امریکا میں منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے پیش گوئیوں کی ویب سائٹ ’پولی مارکیٹ‘ پر سامنے آنے والے رجحانات نے امریکی سیاست میں اقتدار کی ممکنہ تبدیلی سے متعلق بحث کو نمایاں کر دیا ہے۔
پولی مارکیٹ ایک ایسی پیش گوئیوں کی مارکیٹ ہے جہاں لوگ مستقبل میں پیش آنے والے مختلف واقعات کے نتائج پر پیسہ لگاتے ہیں۔ یہ واقعات انتخابات، سیاسی فیصلوں، معاشی حالات، کھیلوں اور دیگر موضوعات سے متعلق ہو سکتے ہیں۔
پولی مارکیٹ پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ایوانِ نمائندگان یعنی کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی کا 93 فیصد جبکہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کا 67 فیصد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دونوں ایوانوں میں بیک وقت اس کامیابی کو امریکی سیاسی اصطلاح میں ڈیموکریٹک سوئپ کہا جاتا ہے۔
یہ اعداد و شمار حتمی انتخابی نتائج نہیں بلکہ ان تاجروں اور سرمایہ کاروں کے لگائی گئی رقم کی عکاسی کرتے ہیں جو مختلف سیاسی نتائج پر اپنی شرط لگاتے ہیں۔ یعنی ابھی تک زیادہ تر لوگوں نے ڈیموکریٹس کی جیت پر سٹہ لگایا ہے۔
یہ انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے وسط میں ہو رہے ہیں اور ان کے نتائج آئندہ دو برس تک وائٹ ہاؤس اور امریکی کانگریس کے درمیان طاقت کے توازن کا تعین کریں گے۔
اگر ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کو قانون سازی، حکومتی نگرانی، بجٹ اور اہم سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے معاملات میں ایک مختلف سیاسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ صدر کے تمام اختیارات ختم ہو جائیں گے یا ان کی پالیسیاں خودبخود تبدیل ہو جائیں گی۔
امریکی سیاسی نظام میں وسط مدتی انتخابات کی حیثیت اور اہمیت کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ امریکا میں صدر کا انتخاب ہر چار سال بعد ہوتا ہے، لیکن کانگریس کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے انتخابات اسی انتخابی سال تک محدود نہیں رہتے۔
صدر کے انتخاب کے تقریباً دو سال بعد ہونے والے انتخابات کو وسط مدتی انتخابات کہا جاتا ہے۔ ان میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں۔
2026 کے ان انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام نشستوں کے علاوہ سینیٹ کی 35 نشستوں پر بھی مقابلہ ہوگا، جن میں 33 معمول کے انتخابات اور دو خصوصی انتخابات شامل ہیں۔
امریکی کانگریس کے دو ایوان ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں نشستوں کی تعداد ریاستوں کی آبادی کے مطابق طے ہوتی ہے، جبکہ سینیٹ میں ہر ریاست کو آبادی سے قطع نظر دو نمائندے ملتے ہیں۔
کانگریس کا بنیادی کام قانون سازی، وفاقی بجٹ کی منظوری، حکومتی اداروں کی نگرانی اور انتظامیہ کے اختیارات پر آئینی حدود کے اندر نظر رکھنا ہے۔ اس لیے صدر کی جماعت اگر کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھتی ہو تو اسے اپنی قانون سازی اور حکومتی ترجیحات آگے بڑھانے میں نسبتاً آسانی ہوتی ہے۔
اس کے برعکس اگر مخالف جماعت کسی ایک یا دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لے تو انتظامیہ کے لیے سیاسی اور پارلیمانی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
موجودہ صورت حال میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ’ری پبلکن پارٹی‘ کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہے۔ سینیٹ میں ری پبلکنز کے 53 ارکان ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹنگ اور پارلیمانی معاملات میں تعاون کرنے والے دو آزاد ارکان سمیت ڈیموکریٹک کیمپ کی مجموعی تعداد 47 ہے۔
کانگریس میں بھی ری پبلکنز کو معمولی اکثریت حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس کو سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کم از کم چار نشستوں کا اضافہ درکار ہے، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں بھی چند نشستوں کی تبدیلی اقتدار کا توازن بدل سکتی ہے۔
اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو ان کے پاس مختلف پارلیمانی کمیٹیوں کی سربراہی اور ایجنڈا طے کرنے کا اختیار آ جائے گا۔
اس کے نتیجے میں وہ ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں، سرکاری اخراجات، تجارتی پالیسیوں، وفاقی اداروں کے اقدامات اور دیگر معاملات کی تحقیقات کر سکتے ہیں۔ کانگریس کی کمیٹیاں سرکاری حکام کو طلب کر سکتی ہیں، دستاویزات حاصل کرنے کے لیے قانونی اختیارات استعمال کر سکتی ہیں اور عوامی سماعتیں منعقد کر سکتی ہیں۔
اس صورت حال میں وائٹ ہاؤس کو مختلف معاملات پر کانگریس کے سامنے جواب دہی کا زیادہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کا دائرہ بھی وسیع ہو سکتا ہے، اگرچہ تحقیقات کا آغاز کسی الزام کے درست ثابت ہونے یا کسی عہدیدار کے خلاف قانونی کارروائی مکمل ہونے کے مترادف نہیں ہوتا۔
قانون سازی کے حوالے سے بھی ڈیموکریٹس کی پوزیشن مضبوط ہو سکتی ہے۔ وہ ری پبلکنز کی جانب سے پیش کیے جانے والے بلوں کی منظوری روکنے یا ان میں تبدیلی کی کوشش کر سکتے ہیں اور اپنی ترجیحات کے مطابق نئے بل پیش کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی پالیسی، درآمدی محصولات یعنی ٹیرف، صحت کی سہولتوں، سرکاری اخراجات اور دیگر داخلی معاملات پر اختلافات کانگریس میں زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔
تاہم صدر کے پاس منظور شدہ قانون کو ویٹو کرنے کا اختیار موجود ہے، جسے ختم کرنے کے لیے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے محض سادہ اکثریت حاصل کر لینا ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کی پالیسیوں کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا اختیار نہیں دے گا۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کی اہمیت بھی غیر معمولی ہوگی۔ امریکی صدر کو وفاقی ججوں، سفیروں، کابینہ کے بعض عہدیداروں اور دیگر اہم سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے لیے سینیٹ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ اگر سینیٹ ڈیموکریٹس کے کنٹرول میں آ جاتی ہے تو وہ ٹرمپ کی جانب سے نامزد کردہ امیدواروں کی منظوری میں تاخیر کر سکتے ہیں یا انہیں مسترد کر سکتے ہیں۔ اس سے عدلیہ، وفاقی اداروں اور انتظامیہ میں اہم عہدوں پر تقرریوں کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کے خلاف مواخذے کا امکان بھی سیاسی بحث کا حصہ بن سکتا ہے۔ امریکی آئین کے تحت ایوانِ نمائندگان کو صدر یا دیگر وفاقی عہدیداروں کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اختیار حاصل ہے، جبکہ سینیٹ میں اس مقدمے کی سماعت ہوتی ہے۔ اگر ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو اکثریت ملتی ہے تو وہ مواخذے کی کارروائی شروع کرنے یا اس سے متعلق تحقیقات کرنے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔
تاہم مواخذے کا آغاز صدر کو عہدے سے ہٹانے کے مترادف نہیں۔ صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی ارکان کی حمایت سے سزا کا فیصلہ ضروری ہوتا ہے۔ اس لیے دونوں ایوانوں میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانا آسان نہیں ہوگا۔
کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کا اثر صرف امریکا کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہے گا۔ خارجہ پالیسی، دفاعی اخراجات، فوجی امداد اور بین الاقوامی معاہدوں سے متعلق معاملات بھی سیاسی بحث کا حصہ بن سکتے ہیں۔ کانگریس کو بجٹ، دفاعی اخراجات اور بعض بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری میں اہم کردار حاصل ہے، جبکہ سینیٹ کو سفیروں اور اہم عہدیداروں کی تقرریوں کی منظوری کا اختیار بھی حاصل ہے۔
اس کے باوجود امریکی صدر کو خارجہ امور میں وسیع آئینی اور انتظامی اختیارات حاصل ہیں۔ وہ کئی معاملات میں انتظامی فیصلوں، سفارتی مذاکرات اور ایگزیکٹو اقدامات کے ذریعے اپنی پالیسی آگے بڑھا سکتے ہیں۔
اس لیے ڈیموکریٹس کی کامیابی کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ امریکا کی خارجہ پالیسی فوری طور پر تبدیل ہو جائے گی۔ البتہ ٹرمپ انتظامیہ کو دفاعی اخراجات، فوجی کارروائیوں، اتحادی ممالک سے تعلقات اور تجارتی تنازعات پر کانگریس میں زیادہ سوالات اور سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی سیاسی تاریخ میں وسط مدتی انتخابات اکثر صدر کی جماعت کے لیے ایک مشکل امتحان ثابت ہوتے رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد تقریباً دو سال گزرنے پر ووٹرز حکومت کی کارکردگی، مہنگائی، روزگار، صحت، رہائش اور دیگر مسائل کی بنیاد پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔
یورپی پارلیمنٹ کی تحقیقی سروس کے مطابق انتخابات میں بھی مہنگائی، رہائش کے اخراجات، صحت کی سہولتوں، ملازمتوں اور دیگر معاشی معاملات کو اہم انتخابی موضوعات قرار دیا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر ریاست اوہائیو میں ارلی ووٹنگ کے آخری روز کولمبس شہر میں پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی شہریوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور بعض ووٹرز کو حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے دو گھنٹے سے زائد انتظار کرنا پڑا۔ طویل انتظار کے باوجود پولنگ مرکز کے باہر پُرجوش ماحول دیکھنے میں آیا، جبکہ ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹ رکن کانگریس ہیلی اسٹیونز کی جانب سے سینیٹ کی نشست کے لیے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کیا گیا جسے مائیک راجرز نے امریکی سیاست میں ایک جرات مندانہ اقدام قرار دیا۔
اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو 2027 اور 2028 کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کو قانون سازی اور حکومتی نگرانی کے حوالے سے زیادہ سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری طرف اگر ری پبلکنز اپنا کنٹرول برقرار رکھتے ہیں تو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اپنی قانون سازی اور تقرریوں کو آگے بڑھانا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
اس تمام صورت حال میں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ پولی مارکیٹ کی پیش گوئیاں انتخابی نتائج کا متبادل نہیں ہیں۔ یہ مالی بنیادوں پر قائم توقعات ہیں جن میں انتخابی مہم، نئی معلومات، معاشی حالات اور سیاسی واقعات کے ساتھ تبدیلی آ سکتی ہے۔
ان مارکیٹوں میں مالی سرمایہ کاری کرنے والے افراد کی تعداد، خرید و فروخت کا حجم اور مارکیٹ میں دستیاب رقم بھی نتائج پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے انہیں عوامی رائے کے مستند سروے یا انتخابی نتائج کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
بالآخر 3 نومبر کے انتخابات یہ طے کریں گے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مدتِ صدارت کے آخری دو سال میں ایک ایسی کانگریس کے ساتھ کام کریں گے جہاں ان کی جماعت کو حمایت حاصل ہوگی یا انہیں مخالف جماعت کی اکثریت کے ساتھ قانون سازی، بجٹ اور حکومتی فیصلوں پر مذاکرات کرنا پڑیں گے۔
پولی مارکیٹ کے موجودہ اعداد و شمار امریکی سیاست میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں مالیاتی توقعات تو ظاہر کرتے ہیں، لیکن اصل فیصلہ ووٹرز کے ووٹ اور انتخابی نتائج ہی کریں گے۔