امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں ایک دن باقی: 5 کروڑ 37 لاکھ سے زائد ووٹ کاسٹ

امریکا میں وسط مدتی انتخابات میں صرف ایک روز باقی رہ گیا ہے، جس کے لیے قبل از وقت ووٹنگ کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا ہے اور اب تک 5 کروڑ 37 لاکھ سے زائد امریکی شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکے ہیں۔ انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 جبکہ سینیٹ کی 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، جس کے نتائج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ سیاسی حکمت عملی اور کانگریس میں ریپبلکنز کی پوزیشن کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جارہے ہیں۔

انتخابات سے قبل سامنے آنے والی سروے رپورٹس کے مطابق آئیووا، کنساس، اوہائیو اور ٹیکساس سمیت اہم ریاستوں میں ریپبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل ہوسکتی ہے، جبکہ سینیٹ میں دونوں جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے انتخابی مہم تیز کردی ہے۔ آئیووا اور کنساس میں منسوخ کی گئی انتخابی ریلیاں بھی ریپبلکنز کے اصرار پر دوبارہ منعقد کی گئیں، تاکہ اہم ریاستوں میں پارٹی کے امیدواروں کے حق میں حمایت حاصل کی جاسکے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس میں اکثریت حاصل کرلی تو وہ ان کے پیش کردہ تمام بل ویٹو کردیں گے۔ نیویارک پوسٹ کو انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس کامیاب ہوئے تو وہ مسٹر ویٹو بن جائیں گے اور انہیں ملک میں تباہی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس کے پیش کردہ بل ویٹو ہونے کے بعد انہیں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آنا پڑے گا اور ممکن ہے کہ اس طرح کسی معاہدے تک پہنچنے کا راستہ نکل آئے۔

ادھر ریاست مشی گن میں سینیٹ کی نشست کے لیے انتخابی مقابلے کے دوران غیرمعمولی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کو شکست دینے کے لیے ان کی سابق حریف ہیلی اسٹیونز نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

ہیلی اسٹیونز ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں عبدل السید سے شکست کھا چکی ہیں اور انہیں کانگریس میں اسرائیل کی مضبوط حامی سمجھا جاتا ہے۔ ان کی جانب سے مخالف جماعت کے امیدوار کی حمایت کے اعلان کو مشی گن کے انتخابی مقابلے میں اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی ہیلی اسٹیونز کے اس فیصلے کو دانشمندانہ قرار دیا ہے۔

عبد السید کی کامیابی اس لحاظ سے بھی تاریخی اہمیت رکھتی ہے کہ وہ سینیٹ کا الیکشن جیتنے کی صورت میں امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن جائیں گے۔

امریکا کے ان وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت نہ صرف قانون سازی بلکہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کی پوزیشن میں بھی ہوگی، اسی لیے دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان انتخابی مقابلہ غیرمعمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles