
سندھ ہائی کورٹ نے بھارتی خفیہ تنظیم ’را‘ کے مبینہ ایجنٹ محمد سلیم کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے ریاست کے خلاف سازش اور مسلح جارحیت کے الزامات کے تحت سنائی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ملزم کے بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلق اور پاکستان کے خلاف سازش کے الزامات ثابت کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ ملزم کے بھارت کے دوروں کی سفری تفصیلات بذاتِ خود را سے تعلق یا ریاست کے خلاف سازش کا ثبوت نہیں ہیں۔
عدالت کے مطابق استغاثہ کسی مبینہ ساتھی کے ساتھ سازش، رابطے یا ریاست کے خلاف جنگ کی تیاری کے شواہد پیش کرنے میں بھی ناکام رہا۔ دھماکا خیز مواد اور اسلحے کی برآمدگی سے خودبخود دہشت گردی کا جرم ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے دہشت پھیلانے کا مخصوص ارادہ اور مقصد ثابت کرنا ضروری ہے۔
سرکاری وکیل کے مطابق 7 اکتوبر 2024 کو اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے منوڑا کے علاقے میں را کے ایجنٹ کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی تھی۔ اس دوران ملزم کے قبضے سے پستول، دھماکا خیز مواد، اوان بم، راکٹ لانچر اور دو پاسپورٹ برآمد ہوئے تھے۔
سرکاری وکیل اقبال اعوان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد سلیم نے غیر قانونی طریقوں سے پاکستانی شہریت حاصل کی تھی۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کو تین بار عمر قید جبکہ دیگر الزامات کے تحت مجموعی طور پر 34 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اپیل میں وکیل صفائی ممتاز دیش مکھ ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم پر عائد تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کے حق میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔