
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ امریکا میں پناہ لینے والے 150 سے زائد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے زبردستی افغانستان واپس بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔
امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا کی مختلف جیلوں اور حراستی مراکز میں قید ان افغان شہریوں میں امریکا کی سابق افغان حکومت کے اتحادیوں کے رشتہ دار اور اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
نیویارک ٹائمز نے نام ظاہر نہ کرنے والے تین امریکی افسران حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ڈی پورٹیشن کی پہلی پرواز دو نومبر کو روانہ ہونے کا امکان ہے، جس کے تحت قیدیوں کو پہلے پاکستان اور بعد میں سرحد پار افغان حکام کے حوالے کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق، امریکا کے طالبان حکومت کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث ڈی پورٹیشن کے لیے پاکستان کو ایک درمیانی راستے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ معمول کے سفارتی چیلنجز سے بچا جا سکے۔
پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل، تصدیق یا توثیق سامنے نہیں آئی ہے۔
امریکی قانون کے مطابق ڈی پورٹ ہونے والے افراد کو براہِ راست اُن ممالک میں نہیں بھیجا جا سکتا جہاں ان کی جان یا آزادی کو خطرہ ہو، تاہم امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے قیدیوں کو آگاہ کیا ہے کہ ان کی حتمی منزل افغانستان ہی ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، حالیہ دنوں میں پناہ گزینوں کو ملک بھر کے مختلف حراستی مراکز سے لوزیانا کے ڈٹینشن سینٹر میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں نومبر کے پہلے ہفتے میں چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے ان کی منتقلی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں ایک 47 سالہ افغان پناہ گزین بھی شامل ہیں جو دو سال کی عمر میں 1981 میں سوویت حملے کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ افغانستان سے ہجرت کر کے امریکا آئے تھے۔ سال 2003 میں ڈکیتی اور دھمکیوں کے دو مقدمات میں سزا کے بعد ان کی مستقل رہائش کی دستاویزات منسوخ کر دی گئی تھیں، تاہم وہ قانونی تقاضوں کے مطابق باقاعدگی سے امیگریشن حکام کو رپورٹ کرتے رہے۔
انہوں نے ہم جنس پرست ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے 2020 میں ایک امریکی شہری سے شادی کی۔
مذکورہ افغان پناہ گزین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کے باعث ان کی زندگی کو شدید ترین خطرات لاحق ہیں۔
اسی طرح ایک اور افغان شہری، جن کی اہلیہ سابق افغان فوج اور خواتین پولیس فورس میں خدمات انجام دے چکی تھیں، انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 2023 میں طالبان کے تشدد کا نشانہ بننے کے بعد وہ 2024 میں امریکا پہنچے، لیکن امریکی عدالت نے ان کی پناہ کی درخواست مسترد کر دی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان خود بھی 2023 سے اب تک 27 لاکھ سے زائد غیر قانونی اور قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر واپس بھیج چکا ہے۔
حکومت کا موقف ہے کہ طالبان دہشتگردوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دیتے ہیں جن سے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کی جاتی ہیں، اسی لیے پاکستان مزید افغان شہریوں کو نکالنے کا عزم رکھتا ہے۔
ماضی میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے افغان شہریوں کی تیسرے ممالک کے ذریعے بے دخلی انتہائی محدود پیمانے پر کی جاتی تھی، جن میں صرف سنگین جرائم میں ملوث افراد شامل ہوتے تھے۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے اور یو سی ایل اے کے ریسرچ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ چار سال کے دوران صرف 97 افغانوں کو واپس بھیجا گیا تھا۔
تاہم نومبر میں متوقع یہ کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر تارکینِ وطن کی بے دخلی کی مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت ماضی میں بھی امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں پر ویزا پابندیاں سخت کی گئی تھیں اور بعض کو افریقی ممالک منتقل کیا گیا تھا یا قطر کے ملٹری بیس سے رضاکارانہ واپسی پر مجبور کیا گیا تھا۔