بائینانس ہیکنگ میں اربوں ڈالرز کی چوری کے بعد کرپٹو ایکسچینجز میں کھلبلی

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس پر 6 ارب 30 کروڑ ڈالر کی تاریخ کی سب سے بڑی سائبر چوری کے بعد دیگر کرپٹو کمپنیوں نے بھی اپنے سیکیورٹی نظام مزید سخت کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ صنعت سے وابستہ ماہرین نے ہیکنگ کے واقعات سے نمٹنے کے لیے تمام کمپنیوں کے درمیان فوری معلومات کے تبادلے اور مشترکہ حکمت عملی بنانے پر زور دیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بائنانس پر ہونے والے اس بڑے سائبر حملے نے ایک بار پھر کرپٹو کرنسی کی صنعت میں موجود سیکیورٹی خامیوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ڈیجیٹل کرنسیوں کو روایتی مالیاتی نظام کا حصہ بنانے کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ریگولیٹری ادارے بھی ڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں مزید جگہ دینے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جس کے باعث کرپٹو کمپنیوں کی ذمہ داریاں اور ان کے سیکیورٹی نظام کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

کرپٹو سرمایہ کاری سے وابستہ ادارے فرینکلن ٹیمپلٹن کے سربراہ کرس پرکنز نے کہا کہ کرپٹو کرنسی کو اس کی مکمل صلاحیت تک پہنچانے کے لیے سیکیورٹی کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنا ضروری ہے۔

بائنانس پر جمعرات کو ہونے والے سائبر حملے کے بعد کمپنی نے صارفین کی جانب سے رقم نکلوانے کا عمل عارضی طور پر روک دیا تھا۔ کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ چوری ہونے والی رقم کا نقصان اپنے وسائل سے پورا کرے گی۔

بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ یہ ایک پیچیدہ سائبر حملہ تھا، جس کا آغاز ممکنہ طور پر کمپنی کے ایک سافٹ ویئر انجینئر کے لیپ ٹاپ تک ہیکرز کی رسائی سے ہوا۔ اس کے بعد حملہ آوروں کو ان نظاموں تک رسائی مل گئی جو صارفین کی رقم نکلوانے کے عمل کو کنٹرول کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بعد میں کمپنی کو سیکیورٹی کی مزید خلاف ورزیوں کا بھی پتا چلا، جبکہ حملہ آوروں کی جانب سے ایسے سافٹ ویئر کا استعمال کیا گیا جس کا مقصد حملے کے نشانات مٹانا تھا۔ اس وجہ سے واقعے کی تحقیقات مزید مشکل ہو گئیں۔

بائنانس پر حملے کے بعد دیگر بڑی کرپٹو ایکسچینجز نے بھی اپنے سیکیورٹی نظام کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ امریکی کرپٹو کمپنی کوائن بیس نے کہا کہ اس نے احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنے ان نظاموں میں تبدیلیاں کی ہیں جہاں کرپٹو کرنسی کی چابیاں آف لائن محفوظ رکھی جاتی ہیں۔

اسی طرح کرپٹو ایکسچینج کراکن نے کہا کہ وہ صنعت میں پیش آنے والے سیکیورٹی واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ان سے سبق حاصل کرکے اپنے دفاعی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

کراکن کے ترجمان کے مطابق کمپنی کی خصوصی ٹیمیں ہر وقت ممکنہ سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے کام کرتی ہیں۔

دوسری جانب کرپٹو صنعت سے وابستہ ماہرین کا خیال ہے کہ اس بڑے حملے کے باوجود مالیاتی نظام پر اس کے وسیع اثرات مرتب ہونے کا امکان کم ہے، کیونکہ بائنانس کے پاس نقصان پورا کرنے کے لیے مناسب مالی وسائل موجود ہیں۔

حملے کی خبر سامنے آنے کے بعد جمعرات کو بٹ کوائن کی قیمت میں 4 فیصد سے زیادہ جبکہ دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ایتھر کی قیمت میں 5 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم جمعے کو دونوں کرنسیوں کی قیمتوں میں کچھ بہتری آئی۔

کرپٹو کمپنی جی ایس آر کے چیف لیگل اینڈ اسٹریٹجی افسر جوش ریزمین نے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق اس واقعے سے پوری کرپٹو صنعت کو بڑے مالی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، البتہ بائنانس کو براہ راست اس حملے کے اثرات سے نمٹنا ہوگا۔

امریکی بلاک چین تجزیاتی کمپنیوں ٹی آر ایم لیبز اور چین اینالیسس کے مطابق چوری کا زیادہ تر حصہ جمعرات کی رات تقریباً 20 منٹ کے اندر مکمل کیا گیا۔ ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقہ ماضی میں شمالی کوریا سے منسوب سائبر حملوں سے ملتا جلتا ہے۔

تاہم شمالی کوریا ماضی میں بھی کرپٹو کرنسی کی چوری میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ اس معاملے پر جنیوا میں شمالی کوریا کے مشن نے تبصرے کے لیے بھیجے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اس حملے میں ممکنہ طور پر سوشل انجینئرنگ کا طریقہ استعمال کیا گیا، جس میں ہیکرز کسی ملازم کو دھوکے سے حساس معلومات فراہم کرنے یا کمپنی کے نظام تک رسائی دینے پر آمادہ کرتے ہیں۔

کرپٹو کمپنی سرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ہیری ڈونلی نے کہا کہ اس طرح کے حملوں سے بچنے کے لیے کمپنیاں اپنے ملازمین کی تربیت بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں تاکہ وہ ہیکرز کے دھوکے میں نہ آئیں۔

ایسے سائبر حملوں میں ہیکرز کی کوشش ہوتی ہے کہ چوری کی گئی رقم کو جلد از جلد مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کرکے اس کا سراغ مٹایا جائے، اس سے پہلے کہ متعلقہ کرپٹو ایکسچینج کو حملے کا پتا چلے یا ڈیجیٹل کرنسی جاری کرنے والی کمپنی مشتبہ اثاثے منجمد کر دے۔

اس واقعے کے بعد اسٹیبل کوائن جاری کرنے والی کمپنی ٹیتھر نے بائنانس حملے سے منسلک تقریباً ایک ارب 57 کروڑ ڈالر کی رقم منجمد کرنے کا اعلان کیا، جبکہ سرکل نے بھی 80 کروڑ ڈالر کے اثاثے منجمد کیے۔

تاہم بٹ کوائن اور ایتھر کو کسی ایک ادارے کے کنٹرول میں نہ ہونے کی وجہ سے اسی طرح منجمد نہیں کیا جا سکتا۔

بلاک چین تجزیاتی کمپنی چین اینالیسس کے مطابق ہیکرز چوری کی گئی رقم کو چھپانے کے لیے منی لانڈرنگ کے ایسے پیچیدہ طریقے استعمال کرتے دکھائی دیے جن کا اس سے پہلے مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد کرپٹو ایکسچینج او کے ایکس کے چیف ایگزیکٹو اسٹار شو نے صنعت کی تمام کمپنیوں کے درمیان مشترکہ اور فوری اطلاع دینے کا نظام قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ایک ایسا نظام ہونا چاہیے جس کے ذریعے کسی بھی ہیکنگ کے واقعے کے فوراً بعد تمام متعلقہ کمپنیوں کو اطلاع دی جا سکے، فوری کارروائی کے لیے رابطہ کیا جا سکے اور چوری شدہ سمجھی جانے والی رقم کو عارضی طور پر منجمد کیا جا سکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles