
امریکی سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے تمام مرکزی بحری راستے بارودی سرنگوں سے پاک ہیں اور ہزاروں تجارتی جہاز ان راستوں سے بحفاظت گزر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دو تیل بردار جہازوں کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے تمام بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مرکزی بحری راستے ایرانی سمندری بارودی سرنگوں سے پاک ہیں اور تجارتی جہاز اس گزرگاہ سے آزادانہ آمدورفت کر رہے ہیں۔
سینٹ کام کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں اور ہفتوں کے دوران ایرانی میڈیا نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے دعوے رپورٹ کیے، تاہم امریکی کمانڈ نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق، امریکی افواج نے آبنائے ہرمز کے تمام بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مرکزی بحری راستوں کو سمندری بارودی سرنگوں سے صاف کر دیا ہے اور یہ راستے اب بھی محفوظ اور رکاوٹوں سے پاک ہیں۔ کمانڈ کا کہنا ہے کہ ہزاروں تجارتی جہاز ان راستوں سے بحفاظت گزر چکے ہیں اور ان پر آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے۔
ایڈمرل بریڈ کوپر نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ وہ رواں ہفتے آبنائے ہرمز کے اوپر سے گزرے اور اس دوران مختلف اقسام کے درجنوں تجارتی جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے گزرتے دیکھا۔ ان کے بقول، اس دورے کے دوران انہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی کوئی موجودگی دکھائی نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز کے تمام مرکزی بحری راستوں کو کھلا اور رکاوٹوں سے پاک رکھنے کے لیے مسلسل چوکس ہیں اور وہاں موجود ہیں۔ کوپر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی بحریہ سمندر کی تہہ میں ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مشرقی اور مغربی حصوں میں دو تیل بردار جہازوں کو روک لیا گیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، دونوں جہاز غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں آبنائے ہرمز کے جنوبی پانیوں میں حادثات پیش آئے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے جمعے کو جاری بیان میں کہا کہ دونوں جہازوں نے اپنے تمام نیویگیشن اور پوزیشننگ سسٹم بند کر رکھے تھے اور امریکی فوج کی مدد سے آبنائے ہرمز کے غیر مجاز راستے سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ ریڈیو کے ذریعے متعدد بار خبردار کیے جانے کے باوجود دونوں جہازوں نے انتباہات کو نظرانداز کیا اور ایک غیر محفوظ علاقے میں داخل ہوگئے، جہاں انہیں حادثات پیش آئے۔ بعد ازاں انہیں آبنائے ہرمز کے جنوبی ساحل کے قریب روک لیا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان جہازوں کو روکنے اور بعد میں ان میں آگ لگنے کی وجہ امریکی فوج کی مبینہ خلل ڈالنے والی کارروائیاں اور آبنائے ہرمز میں ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی تھی۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق عمانی بحریہ نے ملک کے شمالی صوبے مسندم کے ساحل سے 106 ناٹیکل میل (196 کلومیٹر) دور ایک جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس کے عملے کے 25 ارکان کو بحفاظت نکالنے میں مدد فراہم کی ہے۔
عمان کی فوج کے بیان کے مطابق، پاناما کے پرچم بردار جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ جہاز سے نکالے گئے عملے کے ارکان کو طبی امداد بھی فراہم کی گئی ہے۔
ادھر، امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کی نامہ نگار جیکی ہینرچ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں ایران سے متعلق ممکنہ امریکی فوجی آپشنز پر اعلیٰ سطح کی فوجی بریفنگ دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کے اعلیٰ کمانڈر نے صدر ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین بھی شریک تھے۔
فاکس نیوز کے مطابق، علاقائی اتحادیوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر امریکی حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے حتمی فیصلے یا اس کے وقت کی تصدیق نہیں کی گئی۔