اے آئی کی دوڑ میں گوگل کو بڑا دھچکا، مارکیٹ ویلیو میں 500 ارب ڈالر سے زائد کمی

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز دوڑ گوگل کو مہنگی مہنگی پڑگئی، ایک ہی دن میں کمپنی کی مارکیٹ ویلیو 500 ارب ڈالر سے زائد کم ہوگئی، جبکہ کمپنی کے شیئرز کی قیمت گزشتہ چھ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کے منافع میں بھی 25 فیصد کمی ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایمیزون اور مائیکروسافٹ کے بھاری اخراجات نے بھی سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

اے آئی کی تیزی سے ترقی نے دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے نئے کاروباری مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم اس شعبے میں بھاری سرمایہ کاری اب سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بننے لگی ہے۔

بی بی سی کے مطابق گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کی مارکیٹ ویلیو جمعرات کو 500 ارب ڈالر سے زیادہ کم ہوگئی، جس کے بعد کمپنی کے شیئرز کی قیمت 13 فیصد گر کر گزشتہ چھ ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ یہ کمی کمپنی کی جانب سے سال کی آخری کاروباری اپ ڈیٹ جاری کیے جانے کے بعد سامنے آئی، جس میں انکشاف ہوا کہ گوگل سرچ میں اے آئی کے ذریعے تیار کردہ جوابات اشتہارات کی آمدنی کو متاثر کر رہے ہیں۔

جمعرات کے اختتام پر الفابیٹ کی مجموعی مارکیٹ ویلیو 3.97 ٹریلین ڈالر سے کم ہوکر 3.46 ٹریلین ڈالر رہ گئی، رواں سال کے دوران یہ اس کی دوسری بڑی کمی قرار دی گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ الفابیٹ کے سہ ماہی مالیاتی نتائج بظاہر اچھے تھے۔ کمپنی کی مجموعی آمدنی گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25 فیصد اضافے کے ساتھ 127.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس ترقی میں گوگل کلاؤڈ کا اہم کردار رہا، جس کی آمدنی 103 فیصد بڑھ کر تقریباً 31 ارب ڈالر ہوگئی۔

تاہم کمپنی کے منافع میں سہ ماہی کے دوران 25 فیصد کمی ہوئی، جبکہ اس کا فری کیش فلو بھی منفی 9 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ ایک عوامی کمپنی کی حیثیت سے الفابیٹ کا فری کیش فلو منفی ہوا ہے۔ اس سے پہلے تین ماہ کے دوران بھی کمپنی کو اس مد میں خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم موجودہ کمی اس سے تقریباً دوگنی ہے۔

فری کیش فلو سے مراد وہ رقم ہے جو کوئی کمپنی اپنے روزمرہ اخراجات اور سرمایہ کاری کے بعد بچا کر رکھتی ہے۔ اس کا منفی ہونا ظاہر کرتا ہے کہ کمپنی کی جانب سے خرچ کی جانے والی رقم اس کی آمدنی سے زیادہ ہے۔ الفابیٹ کے اخراجات میں اس اضافے کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری ہے۔

گوگل سرچ انجن اب صارفین کے سوالات کے جواب میں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ خلاصے بھی دکھاتا ہے۔ تاہم اس تبدیلی کے نتیجے میں سرچ نتائج کے ساتھ دکھائے جانے والے اشتہارات کی فروخت متاثر ہوئی ہے۔ اشتہارات کی یہی فروخت الفابیٹ کے کاروبار اور آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

تحقیقی ادارے فارسٹرکی پرنسپل تجزیہ کار ٹریسی وو کے مطابق گوگل کے سرچ بزنس کے نتائج اس چیلنج کو ظاہر کرتے ہیں کہ بڑی سطح پر اے آئی میں سرمایہ کاری کے ساتھ پہلے سے قائم مضبوط کاروبار کو کس طرح مستحکم رکھا جائے۔

گوگل کے چیف بزنس آفیسر فلپ شِنڈلر نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ سرچ انجن کے اے آئی پر مبنی نئے نظام کی پیش رفت سے مطمئن ہیں، تاہم ان کے اس بیان کے باوجود سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نہ ہوسکا۔

دوسری جانب ایمیزون کے شئیرز بھی جمعرات کو مالیاتی نتائج سامنے آنے کے بعد آفٹر آورز ٹریڈنگ میں تقریباً 6 فیصد گر گئے۔ کمپنی کی سہ ماہی آمدنی 11 فیصد اضافے کے ساتھ 201 ارب ڈالر رہی، تاہم اس کا فری کیش فلو منفی 42 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ تین ماہ کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا زیادہ ہے۔

ایمیزون کے سربراہ اینڈی جیسی کے مطابق کمپنی مصنوعی ذہانت اور اپنے تیار کردہ کمپیوٹر چپس میں بڑے کاروباری مواقع دیکھ رہی ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ مستقبل میں ان میں سے ہر ایک شعبہ ایک ٹریلین ڈالر تک کا کاروبار بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی اس بھاری سرمایہ کاری کے اخراجات برداشت کرسکتی ہے اور اس کے مستقبل میں بڑے مالی فوائد سامنے آسکتے ہیں۔

ادھر مائیکروسافٹ کے شئیرزمیں بھی ایک فیصد سے کم کمی ہوئی، تاہم کمپنی کی سہ ماہی آمدنی 19 فیصد اضافے کے ساتھ 92.3 ارب ڈالر ہوگئی، جبکہ کلاؤڈ کاروبار کی آمدنی 30 فیصد بڑھ کر 63 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ کمپنی نے اے آئی سے متعلق سرمایہ کاری پر تقریباً 5 ارب ڈالر کم خرچ کیے اور اسی ہفتے ہزاروں ملازمین کی ممکنہ برطرفیوں کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔

مائیکروسافٹ کے سربراہ ستیہ نڈیلا کے مطابق کمپنی کے اے آئی ٹول کوپائلٹ کے روزانہ صارفین میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 500 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس کے ذریعے خودکار طور پر مکمل ہونے والے کاموں کی تعداد جولائی کے بعد سے تقریباً دوگنی ہوگئی ہے۔

فوریسٹر کی تجزیہ کار ٹریسی وو کے مطابق کاروباری اداروں میں اے آئی کی طلب مضبوط ہے، تاہم سرمایہ کار اب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس ٹیکنالوجی پر ہونے والی بھاری سرمایہ کاری سے حقیقی مالی فوائد کس کمپنی کو اور کس حد تک حاصل ہوں گے۔

گوگل، ایمیزون اور مائیکروسافٹ کے مالیاتی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اب مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے امکانات کے بجائے اس سے حاصل ہونے والی حقیقی آمدنی اور منافع کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles