
دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان براہِ راست رابطے کی ٹیکنالوجی اب ایسے افراد کے لیے نئی امید پیدا کر رہی ہے جو بیماری یا جسمانی معذوری کے باعث بولنے اور رابطہ کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ ایلون مسک کی کمپنی ”نیورالنک“ نے اس سلسلے میں نئی پیش رفت کا اعلان کیا ہے، جس میں دماغی سگنلز کو تحریر اور آواز میں تبدیل کرنے کے ساتھ رابطے کے عمل کو مزید آسان بنانے پر کام کیا گیا ہے۔
ایلون مسک نے نیورالنک کی پہلی پراڈکٹ ”ٹیلی پیتھی“ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے انسان ’صرف سوچ‘ کی مدد سے کمپیوٹرز اور دیگر افراد سے رابطہ کر سکے گا۔ مسک کے مطابق مستقبل میں دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان معلومات کی ترسیل کی رفتار عام گفتگو اور ٹائپنگ سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی مدد سے معذور شخص صرف سوچ سے اسکرین پر کمپیوٹر کرسرکو حرکت دے سکتا ہے، مختلف آپشنز منتخب کرسکتا ہے اور کمپیوٹر پر پیغامات لکھنے سے لے کر آرٹ بنانے، کوڈنگ اور گیمز کھیلنے تک کے کام انجام دے سکتا ہے۔
نیورالنک نے 29 اکتوبر کو بتایا کہ کمپنی کے انجینئرز نے اس کے اسپیچ ریسٹوریشن یا بولنے کی صلاحیت بحال کرنے کے کلینیکل مطالعے میں شریک ایک فرد کے گھر پر 72 گھنٹے کا خصوصی ہیکاتھون منعقد کیا، جس کا مقصد سوچ کے ذریعے رابطے کی ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنانا تھا۔
اس دوران انجینئرز نے کئی نئے فیچرز تیار کیے اور ان کی آزمائش کی۔ ان میں ایسا نظام شامل ہے جو صارف کے بولنے کی کوشش شروع کرنے اور ختم کرنے کا خودکار اندازہ لگا سکتا ہے، جس سے ہر مرتبہ ریکارڈنگ شروع یا بند کرنے کے لیے بٹن دبانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
کمپنی نے دماغ سے حاصل ہونے والے سگنلز کو حقیقی وقت میں اسکرین پر دکھانے کا نظام بھی تیار کیا، تاکہ یہ سمجھنے میں مدد مل سکے کہ بولنے یا کسی عمل کا تصور کرنے کے دوران دماغ میں کس نوعیت کی سرگرمی پیدا ہوتی ہے۔
ہیکاتھون کے دوران نیورالنک نے مصنوعی ذہانت کے نظام گروک کو دماغی احکامات کے ذریعے فعال کرنے کا ابتدائی تجربہ بھی کیا۔ اس نظام میں صارف ذہن میں ’’ہے نیورالنک‘‘ کہنے اور اس کے بعد مطلوبہ کام کا تصور کرکے کمپیوٹر پر مصنوعی ذہانت کے معاون کو کام کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ ابتدائی تجربہ اس بات کی مثال ہے کہ مستقبل میں دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان رابطے کی رفتار بڑھنے سے سوچ اور عمل کے درمیان فاصلہ کم کیا جا سکتا ہے۔
نیورالنک نے ”بلوم“ نامی موبائل ایپ بھی تیار کی ہے، جس کا مقصد دماغی کمپیوٹر انٹرفیس کے ذریعے رابطے کو زیادہ آسان بنانا ہے۔
ہیکاتھون کے دوران اس ایپ کو آئی فون کی فون کالز کے نظام سے منسلک کیا گیا، جس کے بعد دماغی سگنلز سے تیار ہونے والی آواز براہِ راست فون کال کے مائیکروفون تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ کمپنی نے کال شروع ہونے پر دوسرے شخص کو یہ بتانے کے لیے اختیاری پیغام کا فیچر بھی آزمایا کہ کال کرنے والا معاون مواصلاتی آلہ استعمال کر رہا ہے۔
اس تجربے میں شریک فرد نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ انجینئرز کی مدد سے وہ فون پر دوبارہ اپنی اہلیہ کے ساتھ مذاق کرنے کے قابل ہوا، جو اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کی ایک مثال ہے۔
نیورالنک نے اسپیچ ریسٹوریشن سے متعلق ابتدائی تحقیقی نتائج بھی جاری کیے۔ کمپنی کے مطابق امیوٹروفک لیٹرل اسکلروسس (اے ایل ایس) نامی اعصابی بیماری میں مبتلا ایک مریض نے دماغی سگنلز کے ذریعے پہلے ہی ہفتے میں فی منٹ 75 الفاظ تحریر کرنے کی رفتار حاصل کی۔
اس تجربے میں نظام نے ایک لاکھ 25 ہزار الفاظ پر مشتمل ذخیرے کے ساتھ کام کیا، جبکہ الفاظ کی شناخت میں غلطی کی شرح 5.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ نظام کی جانب سے تیار کیے گئے متن میں تقریباً 94 فیصد الفاظ درست تھے۔
یہ نتائج نیورالنک کے وی او آئی سی ای نامی ابتدائی کلینیکل مطالعے سے متعلق ہیں، جنہیں 28 اکتوبر کو نادر پوراتیان نے نارتھ ایسٹ اے ایل ایس کنسورشیم کے سالانہ اجلاس میں پیش کیا۔
تاہم یہ نتائج ایک مریض کے ابتدائی تجربے پر مبنی ہیں۔ کمپنی نے ابھی تک ان اعداد و شمار پر مشتمل مکمل اس لیول کا جائزہ شدہ تحقیقی مقالہ شائع نہیں کیا، اس لیے انہیں ابتدائی نتائج کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
ایلون مسک نے نیورالنک کی مستقبل کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ دماغ سے جسم تک موٹر اور حسی سگنلز کی ترسیل بحال کرکے مفلوج افراد کے ہاتھوں کی حرکت اور چلنے پھرنے کی صلاحیت واپس لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
موٹر سگنلز جسم کے اعضا کو حرکت دینے جبکہ حسی سگنلز لمس اور دیگر احساسات کو دماغ تک پہنچانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان دونوں نظاموں کے درمیان رابطہ بحال کرنا مستقبل میں جسمانی معذوری کے شکار افراد کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق، نیورالنک کی یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اسے مزید تحقیق اور آزمائشوں کے ذریعے بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔