ٹرمپ سرکاری دستاویزات میں ’اے آئی' کی اصطلاح پر پابندی کیوں لگانا چاہتے ہیں؟

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اب اس ٹیکنالوجی کے نام پر بھی بحث جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب چاہتے ہیں کہ سرکاری دستاویزات میں اس ٹیکنالوجی کے لیے استعمال ہونے والی معروف اصطلاح ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ کی جگہ ایک نیا نام اپنایا جائے، تاہم ماہرین نے اس تبدیلی کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔

امریکی جریدے نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کی ترجمان لِز ہسٹن نے کہا کہ امریکا سپرانٹیلی جنس کے شعبے میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے، اس لیے وفاقی حکومت کو ایسی اصطلاح استعمال کرنی چاہیے جو اس ٹیکنالوجی کی مکمل صلاحیتوں اور اس سے پیدا ہونے والے مواقع کی عکاسی کرے۔

ٹرمپ نے امریکی حکومت کی دستاویزات میں ’آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘ اور اس کے مختصر نام ’اے آئی‘ کے استعمال پر باضابطہ پابندی لگانے کا منصوبہ ظاہر کیا ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ وفاقی ادارے اس ٹیکنالوجی کے لیے ’سپر انٹیلی جنس‘ یا ’ایس آئی‘ کی اصطلاح استعمال کریں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے لیے ’اے آئی‘ کے بجائے ’ایس آئی‘ کا نام کب استعمال کرنا شروع کرے گا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی موجودہ اصطلاح غلط اور غیر موزوں ہے، جبکہ ’سپر انٹیلی جنس‘ اس ٹیکنالوجی کی بہتر عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جلد ہی تمام متعلقہ سرکاری دستاویزات اور دیگر متعلقہ مواد میں ’اے آئی‘ یا ’آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح پر باضابطہ پابندی عائد کردی جائے گی۔

یہ پیش رفت اس انتظامی حکم کے بعد سامنے آئی ہے جس پر ٹرمپ نے گزشتہ ماہ دستخط کیے تھے۔ اس حکم میں امریکی وفاقی اداروں کو اپنی سرکاری تحریروں اور ابلاغ میں ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح اپنانے کی ہدایت دی گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان لِز ہسٹن نے نیوز ویک کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ امریکا سپر انٹیلی جنس کے شعبے میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے، اس لیے وفاقی حکومت کو ایسی اصطلاح استعمال کرنی چاہیے جو اس ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں اور اس سے پیدا ہونے والے مواقع کی بہتر عکاسی کرے۔

ان کے مطابق ’سپر انٹیلی جنس‘ کی اصطلاح انتظامیہ کی جانب سے امریکی جدت کو فروغ دینے، معیشت کو مضبوط بنانے اور جدید ٹیکنالوجی سے امریکی عوام کی زندگی بہتر بنانے کی کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔

تاہم، محققین اور پالیسی ماہرین نے اس تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے میں ’سپر انٹیلی جنس‘ ایک مخصوص مفہوم رکھتی ہے، جس سے مراد ایسی مشینیں ہیں جو ذہانت کے معاملے میں انسانوں سے بھی آگے نکل جائیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آج دستیاب مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو اس درجے کی ذہانت کا حامل قرار دینا درست نہیں، اس لیے دونوں اصطلاحات کو ایک دوسرے کا متبادل سمجھنا تکنیکی اعتبار سے مسئلہ پیدا کرسکتا ہے۔

اس معاملے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا امریکی صدر کسی لفظ یا اصطلاح کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اختیار رکھتے ہیں؟

نیوز ویک کے مطابق، امریکی صدر وفاقی حکومت کی انتظامی شاخ کے تحت آنے والے اداروں کو ہدایت دے سکتے ہیں کہ وہ اپنی سرکاری دستاویزات اور ابلاغ میں کون سی اصطلاحات استعمال کریں۔ تاہم، یہ اختیار قانونی اور آئینی حدود کے تابع ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر اور آئینی امور کے ماہر جمال گرین نے نیوز ویک کو بتایا کہ صدر کو وفاقی حکومت کی سرکاری دستاویزات میں استعمال ہونے والی زبان پر کچھ اختیار حاصل ہے، لیکن یہ اختیار لامحدود نہیں۔

ان کے مطابق، صدر کو وال اسٹریٹ جرنل جیسے نجی اداروں یا کسی عام شہری کے زبان کے انتخاب کو کنٹرول کرنے کا کوئی قانونی یا آئینی اختیار حاصل نہیں ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ امریکی حکومت اپنے اداروں کے لیے مخصوص اصطلاحات اختیار کرنے کی پالیسی بنا سکتی ہے، لیکن اس سے نجی کمپنیوں، ذرائع ابلاغ اور عام شہریوں کے لیے بھی وہی اصطلاح استعمال کرنا لازمی نہیں ہوجاتا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری کیے گئے انتظامی حکم میں کہا گیا تھا کہ امریکی ماہرین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی تیار کردہ جدید ٹیکنالوجیز ان صلاحیتوں سے کہیں آگے نکل چکی ہیں جن کا تصور اس وقت کیا گیا تھا جب ’مصنوعی ذہانت‘ کی اصطلاح پہلی مرتبہ استعمال ہوئی تھی۔

حکم نامے کے مطابق، جدید ترین اے آئی نظام اب انسانی ذہانت کے بعض پہلوؤں کی محض نقل کرنے یا مخصوص کام خودکار انداز میں انجام دینے تک محدود نہیں رہے۔ اس کے بجائے یہ انسانی صلاحیتوں کو بڑھانے، تخلیقی کاموں کے نئے مواقع پیدا کرنے اور سائنس، طب سمیت زندگی کے مختلف شعبوں میں ایسے کام ممکن بنانے میں مدد دے رہے ہیں جو پہلے ممکن نہیں تھے۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ان ٹیکنالوجیز کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافے کے باعث دنیا مصنوعی ذہانت سے آگے بڑھ کر سپر انٹیلی جنس کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔

حکم نامے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے استعمال ہونے والی اصطلاحات کو ان ٹیکنالوجیز کی تبدیلی لانے کی صلاحیت اور امریکی عوام کے لیے پیدا ہونے والے مواقع کی عکاسی کرنی چاہیے۔ اسی بنیاد پر انتظامیہ نے ’سپر انٹیلی جنس‘ کو زیادہ موزوں اصطلاح قرار دیا۔

تاہم، اس مجوزہ تبدیلی پر بحث جاری ہے کہ آیا نئی اصطلاح جدید مصنوعی ذہانت کی موجودہ صلاحیتوں کی درست وضاحت کرتی ہے یا مستقبل میں ممکنہ طور پر انسانوں سے زیادہ ذہین نظاموں کے لیے مخصوص رہنی چاہیے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد سرکاری سطح پر اس ٹیکنالوجی کے لیے نئی اصطلاح رائج کرنا ہے، لیکن اس تبدیلی کا اطلاق وفاقی اداروں تک کس حد تک محدود رہتا ہے اور نجی شعبہ اسے اپناتا ہے یا نہیں، یہ الگ معاملہ ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles