
پاکستان نے تائیوان کی فضائی کمپنیوں پر اپنی فضائی حدود کے استعمال پر عائد کی گئی پابندی واپس لیتے ہوئے انہیں دوبارہ روٹس استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
مقامی اخبار ’ڈان‘ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے چائنہ ایئرلائنز لمیٹڈ اور ای وی اے ایئر ویز کارپوریشن کو 28 اکتوبر سے 27 مارچ 2027 تک ملک کی فضائی حدود استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس سے قبل وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے امریکی خبر رساں ادارے ’بلومبرگ نیوز‘ کو بتایا تھا کہ ایوی ایشن حکام ’ون چائنا پالیسی‘ پر عمل پیرا ہیں جس کے تحت صرف چین یعنی مین لینڈ چائنا سے تعلق رکھنے والی ایئرلائنز کو ہی پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت ہے اور تائیوان کی فضائی کمپنیوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔
فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق تائیوانی ایئرلائنز نے گزشتہ اتوار سے ہی پاکستانی فضائی حدود سے پروازیں ختم کر کے اپنے روٹس تبدیل کرنا شروع کر دیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں تائیوانی فضائی کمپنیوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا جبکہ تائیوان کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے بھی پروازوں کی رخ تبدیلی پر کوئی موقف پیش نہیں کیا۔
بیجنگ تائیوان کو اپنا ایک الگ تھلگ صوبہ قرار دیتا ہے جبکہ تائی پے اپنی خود مختاری اور آزادی پر قائم ہے۔
پاکستان نے ون چائنا پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے 1951 میں تائیوان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات ختم کر دیے تھے۔
اس کے بعد سے اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان تعلقات میں بے پناہ استحکام آیا ہے، خاص طور پر چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
چین اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا دفاعی و عسکری سامان فراہم کرنے والا ملک بھی ہے، اور اس سلسلے میں دونوں ممالک نے باہمی تعاون کو مزید وسیع کرتے ہوئے چین پاکستان انفارمیشن راہداری کا بھی آغاز کیا ہے۔
تازہ ترین اجازت نامے کے بعد تائیوانی ایئرلائنز کے لیے بین الاقوامی پروازوں کے طے شدہ روٹس پر مسافت اور وقت کا دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔