
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے اپنے فوجی اڈوں کو ہر قسم کی ہنگامی صورتحال میں خود مختار بنانے کے منصوبے کے بعد، ایف بی آئی کے سابق نائب ڈائریکٹر ڈین بونجینو نے عام امریکی شہریوں کو بھی اپنے گھروں کی حفاظت اور تیاری پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔
انہوں نے تمام خاندانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں کم از کم تین دن کے لیے خوراک، پانی اور دیگر ضروری سامان کا ذخیرہ لازمی رکھیں تاکہ بجلی، پانی یا دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی متاثر ہونے کی صورت میں مشکلات سے بچا جا سکے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون اپنے فوجی اڈوں کو ایسے حالات کے لیے تیار کر رہا ہے جن میں انہیں بیرونی مدد کے بغیر کم از کم 90 دن تک کام جاری رکھنا پڑ سکتا ہے۔ اسی تناظر میں ڈین بونجینو نے کہا ہے کہ جس طرح فوج ملکی سلامتی کے لیے تیاری کر رہی ہے، اسی طرح عام شہریوں کو بھی اپنے خاندانوں کی حفاظت کے لیے پیشگی اقدامات کرنے چاہئیں۔
ڈین بونجینو نے اپنے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ہنگامی حالات کا انتظار کرنے کے بجائے پہلے سے ضروری سامان جمع کر لیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پینٹاگون ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہے، لیکن شہریوں کو بھی اپنے گھروں اور اپارٹمنٹس کو ہنگامی حالات کا سامنا کرنے کے قابل بنانا چاہیے۔
بونجینو نے خاندانوں کو مشورہ دیا کہ وہ خوراک، پانی، بیٹریوں، ہنگامی ریڈیو اور پانی صاف کرنے کے آلات کا انتظام رکھیں۔ ان کے مطابق، اگر کسی ہنگامی صورت حال میں بجلی یا پانی کی فراہمی متاثر ہو جائے یا دکانوں تک رسائی مشکل ہو جائے تو یہ اشیا کام آ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے یہ سامان کئی سال تک استعمال نہ کرنا پڑے، لیکن کسی مشکل وقت میں اس کی موجودگی خاندان کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے سے تیاری کریں۔
ینٹاگون کے فورٹریس منصوبے کا مقصد بڑے امریکی فوجی اڈوں کو اس قابل بنانا ہے کہ جنگ یا کسی بڑے بحران کے دوران بیرونی نظام اور سپلائی متاثر ہونے کے باوجود وہ کم از کم 90 دن تک اپنے ضروری کام جاری رکھ سکیں۔
اس منصوبے کے تحت بجلی، پانی، ایندھن اور مواصلاتی سہولتوں کے متبادل انتظامات پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ شہری بنیادی ڈھانچے میں خرابی یا سامان کی ترسیل میں رکاوٹ کے باوجود فوجی کارروائیاں متاثر نہ ہوں۔
رپورٹ کے مطابق، پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے کہا ہے کہ قومی دفاع کے لیے شہری بلدیاتی نظام پر مکمل انحصار کرنا قابل قبول خطرہ نہیں۔ اسی لیے فوجی تنصیبات کو ایسے متبادل انتظامات سے لیس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو عام نظام کی ناکامی کے باوجود کام کر سکیں۔
فورٹریس منصوبے میں چھوٹے قابلِ نقل جوہری ری ایکٹرز، بجلی ذخیرہ کرنے والی بڑی بیٹریوں اور الگ بجلی کے نظام کی تیاری بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ گولہ بارود، ایندھن، اہم معدنیات، الیکٹرانک آلات، مشینری کے پرزوں اور طبی سامان کے ذخائر برقرار رکھنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
طویل جنگ یا بین الاقوامی تجارتی راستوں میں رکاوٹ کی صورت میں ضروری سامان کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس خطرے کو کم کرنے کے لیے متبادل سپلائرز کا انتظام کرنے اور ضرورت پڑنے پر شہری کارخانوں کو دفاعی سامان کی تیاری کے لیے استعمال کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکا میں 17 نومبر کو ملک گیر ہنگامی الرٹ نظام کی آزمائش بھی کی جائے گی۔ یہ مشق امریکی مشرقی معیاری وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 20 منٹ سے 2 بج کر 50 منٹ کے درمیان ہوگی، جس دوران ٹیلی وژن اور ریڈیو پر آزمائشی پیغام نشر کیا جائے گا۔
یہ الرٹ موبائل فونز یا دیگر آلات پر نہیں بھیجا جائے گا۔ اس آزمائش کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ ہنگامی صورت حال میں شہریوں تک ضروری معلومات پہنچانے کا نظام مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے یا نہیں۔ امریکی قوانین کے تحت اس نظام کی ہر تین سال بعد جانچ کی جاتی ہے۔
مجموعی طور پر فورٹریس منصوبہ امریکی فوجی اڈوں کو طویل بحران میں خود کفیل بنانے کی کوشش ہے، جبکہ شہریوں کو تین دن کا ضروری سامان رکھنے کا مشورہ عام ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے دیا گیا ہے۔