اسرائیلی عرب جماعتوں کا حکومت کا حصہ بنے بغیر اپوزیشن کی نئی حکومت کی حمایت کا فیصلہ

اسرائیل میں انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی جوڑ توڑ جاری ہے، جہاں عرب جماعتوں نے نئی اپوزیشن حکومت کی حمایت کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ حکومتی اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گی۔ عرب جماعتوں نے 19 نشستیں حاصل کی ہیں اور ان کی حمایت حکومت سازی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔

اسرائیل میں انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی عرب جماعتوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو ہٹانے کے لیے کسی متبادل حکومت کی حمایت کرنے کو تیار ہیں، تاہم وہ خود حکومتی اتحاد میں شامل نہیں ہوں گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے جوائنٹ لسٹ کے رہنما یوسف جبارین نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں عرب جماعتیں اسرائیلی حکومت کا حصہ بننے کا امکان نہیں دیکھ رہیں۔ ان کے مطابق غزہ کی جنگ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبوں سمیت کئی معاملات ایسے ہیں جن کی وجہ سے ان جماعتوں کے لیے حکومت میں شامل ہونا ممکن نہیں۔

یوسف جبارین نے کہا کہ اس کے باوجود عرب جماعتیں نیتن یاہو کی حکومت کے خاتمے کے لیے بننے والی متبادل حکومت کی حمایت کرنے کو تیار ہیں۔

بدھ کو سامنے آنے والے انتخابی نتائج کے مطابق کسی بھی جماعت یا اتحاد کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوسکی، تاہم نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد کو نسبتاً برتری حاصل ہے۔ اس کے باوجود بڑے سیاسی اتحادوں کے لیے عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر حکومت بنانا مشکل ہوگا۔

اسرائیلی انتخابات میں ریکارڈ تعداد میں ووٹ ڈالے گئے، جس کے نتیجے میں عرب جماعتوں نے بھی نمایاں کامیابی حاصل کی۔ جوائنٹ لسٹ اور رام کے نام سے انتخابات میں حصہ لینے والی عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتیں، جس سے حکومت سازی میں ان کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

یہ دونوں جماعتیں اسرائیل کی تقریباً 20 فیصد عرب آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں اور نیتن یاہو کی حمایت نہیں کرتیں۔ ان کے مقابلے میں گادی آئزنکوٹ وزارت عظمیٰ کے ممکنہ امیدواروں میں شامل ہیں۔

یوسف جبارین اس سے قبل اپنے ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ عوام نے نئی قیادت کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی نیتن یاہو کی حکومت کا متبادل بننا چاہتا ہے، اسے عرب جماعتوں سے رابطہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ یہ ہونا ہے کہ آیا نسل پرستی پر مبنی حکومت جاری رہے گی یا عربوں اور یہودیوں کے درمیان حقیقی شراکت داری کا آغاز ہوگا۔

دوسری جانب نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے عرب جماعتوں پر انتخابی عمل میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں اور انتخابات کرانے والے ادارے سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ نیتن یاہو نے عرب جماعتوں پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام بھی لگایا ہے۔

لیکوڈ پارٹی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ عرب جماعتوں نے اپنے ووٹ بڑھانے کے لیے ممنوعہ سافٹ ویئر استعمال کیا۔ اس کے علاوہ جماعت کا الزام ہے کہ رام پارٹی کو ایسے ہزاروں لفافے موصول ہوئے جن میں رقم بھیجی گئی تھی۔

الیکشن کمیٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے ان الزامات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تحقیقات کی جائیں گی۔

رام پارٹی کے سربراہ منصور عباس نے نیتن یاہو کے بیانات کو جھوٹ پر مبنی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے الزامات کا مقصد یہودی انتہا پسند ووٹروں کو اپنے حق میں متحرک کرنا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles