انگلینڈ کے کین نے فٹبال کا عالمی اعزاز 'بالن ڈی اور' جیت لیا، خواتین کا اعزاز پُٹیلاس کے نام

انگلینڈ کی فٹبال ٹیم کے کپتان اور بائرن میونخ کے اسٹرائیکر ہیری کین نے فٹبال کا معتبر ترین انفرادی اعزاز ”بیلن ڈی اور“ اپنے نام کر لیا ہے۔ شاندار گول اسکورنگ اور مسلسل عمدہ کارکردگی کی بدولت 33 سالہ کین 25 سال بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے انگلش فٹ بالر بن گئے ہیں۔ اس سے قبل مائیکل اوون نے 2001 میں بیلن ڈی اور جیتا تھا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لندن میں پیر کو ہونے والی تقریب میں ایوارڈ وصول کرتے ہوئے ہیری کین نے خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ اپنے شہر لندن میں یہ اعزاز حاصل کرنا ان کے لیے اسے مزید خاص بنا دیتا ہے۔ انہوں نے ایوارڈ کے لیے ووٹ دینے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سال نامزد کھلاڑیوں کے درمیان انتخاب کرنا یقیناً مشکل رہا ہوگا۔

کین نے اپنی کامیابی کو محنت، ثابت قدمی اور طویل جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواب پورے کرنا ہر کسی کے لیے ممکن ہے، بشرطیکہ وہ محنت جاری رکھے، چاہے اس وقت کوئی اسے دیکھ نہ رہا ہو۔ انہوں نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو پیغام دیا کہ کامیابی کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی ابتدا ہی سے سب سے آگے ہو، بلکہ مشکلات سے گزر کر بھی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔

ہیری کین نے 26-2025 کے سیزن میں بائرن میونخ کی جانب سے تمام مقابلوں میں 51 میچ کھیلتے ہوئے 61 گول کیے۔ ان کی شاندار کارکردگی نے جرمن کلب کو ملکی لیگ اور کپ، دونوں ٹائٹل جیتنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کلب اور قومی ٹیم کی جانب سے ان کے مجموعی گولز کی تعداد 73 رہی، جو جدید دور کے فٹ بال میں غیر معمولی کارکردگی شمار ہوتی ہے۔

کین کی کامیابی صرف کلب فٹ بال تک محدود نہیں رہی۔ ورلڈ کپ میں انہوں نے چھ گول کیے اور انگلینڈ کو سیمی فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی گول کرنے کی صلاحیت کے ساتھ قیادت اور دباؤ میں پُرسکون رہنے کی خوبیوں نے بھی انہیں اس اعزاز کے لیے مضبوط امیدوار بنایا۔

بیلن ڈی اور تک ہیری کین کا سفر آسان نہیں تھا۔ نوجوانی میں انہیں ٹوٹنہم ہاٹسپر کی ٹیم میں اپنی جگہ بنانے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں مختلف کلبوں میں بھیجا گیا۔ تاہم، مسلسل محنت کے ذریعے وہ اپنی نسل کے نمایاں ترین اسٹرائیکرز میں شامل ہوگئے۔ وہ نہ صرف مختلف انداز سے گول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ساتھی کھلاڑیوں کے لیے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کین نے اپنی تقریر میں اپنے سابق کوچز، ٹوٹنہم ہاٹسپر اور اپنی اہلیہ کیٹ کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ان کی یہ کامیابی اس طویل سفر کا اہم سنگ میل ہے جس میں انہوں نے مشکلات کے باوجود خود کو دنیا کے بہترین اسٹرائیکرز میں شامل کیا۔

بیلن ڈی اور کے لیے اس سال مقابلہ سخت تھا۔ فرانسیسی اسٹار کیلین ایمباپے نے ورلڈ کپ میں گول اسکورنگ کے ریکارڈ توڑے، جبکہ لامین یامل نے اسپین کی ورلڈ کپ فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود ووٹرز نے پورے سیزن میں مسلسل عمدہ کارکردگی دکھانے والے ہیری کین کو ترجیح دی۔

ایوارڈ کی دوڑ میں ایمباپے دوسرے، لامین یامل تیسرے، روڈری چوتھے اور لیونل میسی پانچویں نمبر پر رہے۔ بیلن ڈی اور جیتنے کے بعد کین نے اپنے اعزازات میں فٹ بال کا یہ سب سے بڑا انفرادی ایوارڈ بھی شامل کر لیا۔ وہ انگلینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی اور ورلڈ کپ میں ملک کے ریکارڈ گول اسکورر بھی ہیں۔

اسپین کی مڈفیلڈر الیکسیا پُٹیلاس نے خواتین کا ’بیلن ڈی اور‘ تیسری مرتبہ جیت لیا۔ انہوں نے سیزن 26-2005 میں بارسلونا کی جانب سے کھیلتے ہوئے ٹیم کو تین بڑے اعزازات اپنے نام کرنے میں مدد دی، جبکہ کلب نے اسپینش سپر کپ بھی اپنے نام کیا۔

پُٹیلاس نے بارسلونا کے ساتھ 14 سال گزارنے کے بعد جولائی میں انگلینڈ کی ویمنز سپر لیگ کی ٹیم لندن سٹی لائنز میں شمولیت اختیار کی۔

اسپین اور بارسلونا کے کھلاڑیوں نے نوجوان ٹیلنٹ کے اعزازات بھی اپنے نام کیے۔ لامین یامل نے نوجوان کھلاڑی کا ایوارڈ تیسری مرتبہ جیتا، جبکہ وکی لوپیز مسلسل دوسری مرتبہ خواتین کی نوجوان کھلاڑی قرار پائیں۔

اسپین کے کوچ لوئس دے لا فوئنٹے کو سال کا بہترین مرد کوچ منتخب کیا گیا، جبکہ بارسلونا کے پیری رومیو نے خواتین کے بہترین کوچ کا ایوارڈ حاصل کیا۔

اسپین اور ایتھلیٹک بلباؤ کے گول کیپر اونائی سائمن کو بہترین مرد گول کیپر قرار دیا گیا، جبکہ اسپین اور بارسلونا کی کاتا کول نے خواتین کے بہترین گول کیپر کا اعزاز جیتا۔

پیرس سینٹ جرمین کو سال کا بہترین مرد کلب اور بارسلونا کو بہترین خواتین کلب قرار دیا گیا۔ ہیری کین نے بہترین مرد اسٹرائیکر کا ایوارڈ بھی حاصل کیا، جبکہ خواتین میں یہ اعزاز چارلین کورال کے نام رہا۔

آرسنل اور انگلینڈ کے ونگر بوکایو ساکا کو انسانی فلاح و بہبود کے لیے خدمات پر سقراط ایوارڈ دیا گیا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles