لاہور: آذربائیجانی خاتون کا یوٹرن، ملزم بے قصور قرار، زیادتی کیس ختم کرنے کی اپیل


آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا سے لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں خاتون نے ایک ویڈیو بیان میں ملزم احمد تنویر کو بے قصور قرار دیتے ہوئے مقدمہ ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ویڈیو بیان میں ڈیانا کا کہنا ہے کہ احمد تنویر نے ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی اور نہ ہی ان کے موبائل فون چھینے۔ انہوں نے اس سے قبل زیادتی کے حوالے سے دیے گئے بیانات کو دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ویڈیو میں خاتون نے متعلقہ حکام سے مقدمہ ختم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
بیان کے آغاز میں ڈیانا نے 9 اکتوبر کی تاریخ کا حوالہ، جس سے بظاہر یہ ویڈیو اسی روز ریکارڈ کیے جانے کا تاثر ملتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ڈیانا نے آذربائیجان کے سفارت خانے کی دستاویزات کے ذریعے بھی احمد تنویر کو بے قصور قرار دیا ہے۔
دوسری جانب پولیس نے 27 اکتوبر تک عبوری ضمانت منظور ہونے کے باوجود احمد تنویر کو عدالت کے باہر سے گرفتار کر لیا ہے۔
واضح رہے کہ ڈیانا نامی غیر ملکی خاتون ستمبر کے آخری ہفتے میں اچانک سامنے آئی تھی جس نے لاہور میں مبینہ اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔

لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی میں درج مقدمے کے مطابق ڈیانا کا الزام تھا کہ دو خواتین اور تین مردوں نے مبینہ طور پر انہیں کوئی نشہ آور چیز پلانے کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور ان کے سامان اور موبائل فونز بھی چھین لیے تھے۔ خاتون نے الزام عائد کیا تھا کہ ملزمان بعد ازاں انہیں ایئرپورٹ کے قریب چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
پولیس نے مقدمے کے اندراج کے بعد جائے وقوعہ سے فرانزک شواہد اور ڈی این اے کے نمونے جمع کیے اور مبینہ طور پر واقعے میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی برآمد کی، جب کہ مرکزی ملزم محسن سمیت متعدد افراد کو بھی حراست میں لیا۔ رواں ماہ کے آغاز میں لاہور پولیس کی نگرانی میں ڈیانا کو واپس آذربائیجان روانہ کر دیا گیا تھا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles