
اردن کے صوبے کرک میں جمعے کے روز چرچ میں مذہبی تقریب کے دوران فائرنگ سے کم از کم 7 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے ہیں۔ واقعے کے وقت چرچ میں ایک میت کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں۔
اردن کے سرکاری ٹی وی چینل ’المُملکہ‘ کے مطابق دو مسلح افراد ایک گاڑی میں سوار ہو کر کرک گورنری کے علاقے حمود میں واقع چرچ پہنچے اور وہاں موجود افراد پر فائرنگ شروع کر دی۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔
تقریب میں شریک خالد برقان نے ’المملکہ‘ کو بتایا کہ تقریب میں درجنوں افراد موجود تھے۔ ان کے مطابق ایک حملہ آور کے پاس رائفل، جب کہ دوسرے کے پاس پستول تھی اور دونوں نے کئی منٹ تک فائرنگ کی۔
اردنی حکام کے مطابق حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔
اردن کے محکمۂ پبلک سیکیورٹی محمد المومنی کے مطابق سیکیورٹی ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔
اردن مشرقِ وسطیٰ کے نسبتاً مستحکم ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس نوعیت کے جہاں اس نوعیت کے واقعات نہ ہونے کے برابر رپورٹ ہوتے ہیں۔
ملک میں مسلمان اور مسیحی برادریاں طویل عرصے سے آباد ہیں، تاہم مسیحی اقلیت میں ہیں۔ اردن میں متعدد ایسے مذہبی مقامات بھی موجود ہیں جنہیں مسیحی روایات میں خاص اہمیت حاصل ہے اور جہاں زیارت کے لیے مسیحی زائرین دنیا بھر سے آتے ہیں۔