ٹرمپ انتظامیہ نے 3 لاکھ سے زائد امریکی ویزے منسوخ کر دیے

امریکا میں امیگریشن پالیسی سخت ہونے کے باعث غیر ملکی شہریوں کے لیے ملک میں داخلے اور قیام کے معاملات مزید مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران امریکی حکومت نے ویزوں کی منسوخی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جس کے تحت اب تک 3 لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری 2025 میں شروع ہونے والی دوسری مدتِ صدارت کے دوران اب تک 3 لاکھ سے زیادہ امریکی ویزے منسوخ کیے ہیں۔ یہ تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں ویزے منسوخ کرنے کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اس سے قبل 10 اگست کو جاری کردہ بیان میں محکمہ خارجہ نے بتایا تھا کہ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے اس وقت تک 1 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ ویزے منسوخ کیے جا چکے تھے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس کے بعد بھی بڑی تعداد میں ویزے منسوخ کیے گئے، جس سے انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی پر عمل درآمد کی رفتار کا اندازہ ہوتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات اور ملک بدر کرنے کی مہم کا مقصد امریکا کی داخلی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔ ان کی انتظامیہ غیر قانونی امیگریشن روکنے کے ساتھ ساتھ ایسے غیر ملکی شہریوں کے خلاف بھی کارروائی کر رہی ہے جن پر قوانین کی خلاف ورزی، دھوکا دہی یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات ہوں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹامی پیگوٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر تازہ اعداد و شمار کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے تاریخ کی کسی بھی دوسری امریکی حکومت کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ویزے منسوخ کیے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت ایسے غیر ملکی شہریوں کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی جو ویزے پر امریکا میں موجود ہوتے ہوئے قانون توڑیں، دھوکا دہی کریں یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچائیں۔

تاہم، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور کارکنوں نے حکومت کی ان پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امیگریشن کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیوں کے دوران بعض افراد کے قانونی حقوق اور آزادیٔ اظہار کو متاثر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ان اقدامات سے خاص طور پر نسلی اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے، جبکہ بعض افراد نے حکومتی کارروائیوں میں نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک کیے جانے کے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔

انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے جن اقدامات پر خاص طور پر اعتراض کیا گیا ہے، ان میں فلسطین کے حامی غیر ملکی مظاہرین کے ویزوں کی منسوخی بھی شامل ہے۔ ان افراد نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ امریکا اسرائیل کا اتحادی ہے، اور ان مظاہروں میں شریک بعض غیر ملکی شہریوں کے خلاف حکومتی کارروائیوں پر حقوق کے کارکنوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

 (امریکی ریاست ورجینیا کے واشنگٹن ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک شخص اپنے پاسپورٹ میں منسوخ شدہ ویزا دکھا تے  ہوئے۔ بشکریہ رائٹرز)
(امریکی ریاست ورجینیا کے واشنگٹن ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک شخص اپنے پاسپورٹ میں منسوخ شدہ ویزا دکھا تے ہوئے۔ بشکریہ رائٹرز)

اسی طرح قدامت پسند امریکی مبصر چارلی کرک کے قتل پر سوشل میڈیا پر تبصرے کرنے والے بعض غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کیے جانے پر بھی تنقید ہوئی۔ ناقدین کے نزدیک ایسے معاملات میں حکومتی اقدامات آزادیٔ اظہار کے حق سے متعلق سوالات پیدا کرتے ہیں۔

ویزا منسوخی کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی مظاہرین کو ملک بدر کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں۔ اس کے ساتھ تارکینِ وطن اور ویزا درخواست دہندگان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال مزید سخت کی گئی ہے۔ اس پالیسی کے تحت حکام درخواست دہندگان کی آن لائن سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں، جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے نگرانی کے دائرے اور اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

حقوق کے لیے کام کرنے والے بعض افراد کا الزام ہے کہ امریکی حکومت قومی سلامتی کی وجوہات کو حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دھوکا دہی کے چند واقعات کی بنیاد پر بعض اوقات پوری تارکینِ وطن برادریوں کو وسیع تر حکومتی جانچ پڑتال اور سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے ریاست مینیسوٹا میں صومالی نژاد امریکی برادری کی مثال بھی دی گئی ہے۔

ٹرمپ نے 2024 کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی امیگریشن روکنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ان کی انتظامیہ کے اقدامات صرف غیر قانونی طور پر امریکا میں داخل ہونے والوں تک محدود نہیں رہے۔ قانونی طریقے سے امریکا آنے کے خواہش مند افراد کے لیے بھی بعض شرائط سخت کی گئی ہیں۔ اس کی ایک مثال مخصوص ورک ویزوں کے لیے بھاری فیسوں کا نفاذ ہے، جس سے قانونی امیگریشن کے بعض راستے مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔

یوں ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی میں ایک طرف ویزوں کی منسوخی اور ملک بدری کی کارروائیاں تیز ہوئی ہیں، تو دوسری طرف قانونی طور پر امریکا آنے والے افراد کے لیے بھی مشکلات بڑھی ہیں۔ حکومت ان اقدامات کو داخلی سلامتی اور قانون کے نفاذ کے لیے ضروری قرار دیتی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکن ان کے قانونی تقاضوں، آزادیٔ اظہار اور نسلی امتیاز سے متعلق ممکنہ اثرات پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles