اسرائیل میں آئندہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی حکومت فلسطینیوں کے حوالے سے موجودہ پالیسی کا رخ بدل سکتی ہے۔ سابق اسرائیلی وزیر انصاف یوسی بیلین کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم اس کا انحصار نئی حکومت کی جانب سے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر ہوگا۔
اسرائیل میں آئندہ انتخابات کے تناظر میں وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مقابلہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انتخابی نتائج نہ صرف حکومت کی تشکیل بل کہ غزہ جنگ، فلسطینیوں کے مستقبل اور خطے میں امن کے امکانات سے متعلق اسرائیل کی پالیسی پر بھی اثرانداز ہوسکتے ہیں۔
اسرائیل کے پارلیمانی نظام میں حکومت بنانے کے لیے کنیسٹ، یعنی پارلیمان، میں 120 میں سے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کے لیے بھی حکومت بنانا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب وہ مطلوبہ پارلیمانی حمایت حاصل کرلے۔ مختلف جماعتوں کے درمیان اتحاد حکومت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور اس کے اتحادیوں کو مختلف اپوزیشن جماعتوں کا سامنا ہے۔ تاہم اپوزیشن کی تمام جماعتیں فلسطینی ریاست، غزہ کے مستقبل اور اسرائیل کی سیکیورٹی پالیسی پر ایک جیسا مؤقف نہیں رکھتیں۔
ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ اگر انتخابات کے بعد اسرائیل میں نئی حکومت بنتی ہے تو کیا وہ فلسطینیوں کے بارے میں موجودہ پالیسی تبدیل کرنے پر آمادہ ہوگی؟
نئی حکومت اور فلسطینی ریاست کا امکان
اسرائیل کے سابق وزیر انصاف یوسی بیلین نے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو میں امید ظاہر کی ہے کہ نئی حکومت فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب پیش رفت کرسکتی ہے اور اسرائیلی و فلسطینی قیادت کے درمیان امن کا راستہ تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
یوسی بیلین کے مطابق مرکز اور بائیں بازو کی جماعتیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کی حمایت کرتی ہیں، جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب پیش رفت کا امکان بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ جماعتیں فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتیں، لیکن اس منصوبے سے متعلق ان کا مؤقف اس کی حمایت کرتا ہے۔ بیلین کے مطابق جلد ہی یہ واضح ہوجائے گا کہ وہ اپنے مؤقف پر کس حد تک عمل کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ جماعتیں فلسطینی ریاست کے قیام کی تجویز مسترد کردیتی ہیں تو موجودہ اور آئندہ حکومت کی پالیسی میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس اگر وہ ٹرمپ کے منصوبے میں تجویز کردہ راستے پر آگے بڑھتی ہیں تو یہ اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی ہوگی۔
ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے میں کیا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر 2025 میں غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس میں جنگ بندی، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی، فلسطینی قیدیوں کی رہائی، انسانی امداد کی فراہمی اور اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کی تجاویز شامل ہیں۔
منصوبے کے تحت غزہ کا انتظام عارضی طور پر فلسطینی ماہرین پر مشتمل ایک غیرسیاسی کمیٹی کے سپرد کرنے، علاقے کی تعمیرِ نو اور حماس کو غزہ کے انتظامی ڈھانچے میں کوئی کردار نہ دینے کی تجویز بھی دی گئی تھی۔
اس میں غزہ کو غیرمسلح کرنے اور اسرائیل کی جانب سے علاقے پر قبضہ یا اسے ضم نہ کرنے کی شقیں بھی شامل ہیں۔ منصوبے میں فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات مکمل ہونے کے بعد فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتبار راستہ پیدا کرنے کا ذکر بھی موجود ہے۔
تاہم یوسی بیلین کے تجزیے کے مطابق، ان تجاویز کی عملی حیثیت کا تعین اسرائیل کی آئندہ حکومت کے اقدامات سے ہوگا۔ منصوبے میں فلسطینی ریاست کی جانب پیش رفت کا ذکر اپنی جگہ، لیکن اس پر عمل درآمد کے لیے اسرائیلی حکومت کی سیاسی حمایت اور عملی فیصلے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
مغربی کنارے میں یہودی بستیاں اور فلسطینی علاقوں کی تقسیم
فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں ایک اہم مسئلہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی یہودی بستیوں کی توسیع اور فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی تقسیم بھی ہے۔ مغربی کنارے میں فلسطینی آبادیوں کے درمیان اسرائیلی بستیاں اور ان سے منسلک سڑکیں موجود ہیں، جب کہ چی ک پوسٹوں اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث فلسطینیوں کے لیے بعض علاقوں تک رسائی محدود رہتی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً 47,390 رہائشی یونٹس کے منصوبے آگے بڑھائے گئے، منظور کیے گئے یا ان کے لیے ٹینڈرز جاری ہوئے۔ ان میں سے بڑی تعداد ایریا سی اور مشرقی یروشلم میں تھی۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یہودی بستیوں کی توسیع فلسطینی علاقوں کو مزید تقسیم کرتی ہے اور ایک مسلسل جغرافیائی خطے پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو متاثر کرتی ہے۔
مغربی کنارے کے انتظامی ڈھانچے کو سمجھنے کے لیے 1990 کی دہائی کے اوسلو معاہدوں کے تحت قائم کی گئی ایریا اے، بی اور سی کی تقسیم اہم ہے۔ ان علاقوں میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے اختیارات مختلف ہیں۔

ایریا اے میں فلسطینی اتھارٹی کو شہری انتظام اور داخلی سیکیورٹی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایریا بی میں تعلیم، صحت اور دیگر شہری معاملات فلسطینی اتھارٹی کے تحت ہیں، تاہم سیکیورٹی کے حوالے سے اسرائیل کو بالادست اختیار حاصل ہے۔ اس کے برعکس ایریا سی میں شہری انتظام، تعمیرات، منصوبہ بندی اور سیکیورٹی سمیت بنیادی اختیارات اسرائیل کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ علاقہ مغربی کنارے کے تقریباً 60 فی صد رقبے پر مشتمل ہے اور اس میں تمام اسرائیلی بستیاں شامل ہیں۔
اس تقسیم کے باعث فلسطینی آبادیوں کے زیرِ انتظام علاقے ہر جگہ ایک دوسرے سے متصل نہیں۔ بعض مقامات پر فلسطینی دیہات اور آبادیاں اسرائیلی بستیوں کے قریب واقع ہیں، جب کہ کچھ علاقوں میں فلسطینی اور اسرائیلی آبادکار ایک ہی شہر یا اس کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں۔ تاہم ان کی نقل و حرکت اور رسائی کے قواعد یکساں نہیں ہیں۔
اس کی ایک نمایاں مثال الخلیل، جسے عبرانی میں حبرون کہا جاتا ہے، کا علاقہ ایچ ٹو ہے۔ یہاں تقریباً 7 ہزار فلسطینیوں کے ساتھ کئی سو اسرائیلی آبادکار بھی رہتے ہیں، لیکن بعض حصوں میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور کے مطابق، اس علاقے میں مخصوص چیک پوسٹوں کے ذریعے آمدورفت کنٹرول کی جاتی ہے اور بعض راستوں تک رسائی صرف رجسٹرڈ فلسطینی رہائشیوں تک محدود ہے۔
مغربی کنارے میں چیک پوسٹوں، سڑکوں کی بندش اور دیگر رکاوٹوں کا اثر تعلیم، صحت، روزگار اور روزمرہ زندگی پر بھی پڑتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، دسمبر 2025 تک مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں نقل و حرکت محدود کرنے والی 925 مستقل یا عارضی رکاوٹیں ریکارڈ کی گئی تھیں، جن سے تقریباً 34 لاکھ فلسطینی متاثر ہوتے ہیں۔
اس تناظر میں فلسطینی ریاست کے قیام کا سوال صرف سیاسی حمایت تک محدود نہیں رہتا، بل کہ یہ بھی اہم ہے کہ نئی اسرائیلی حکومت یہودی بستیوں کی توسیع، زمین پر کنٹرول، فلسطینی آبادیوں کے باہمی رابطے اور نقل و حرکت کی پابندیوں کے بارے میں کیا پالیسی اختیار کرتی ہے۔
غزہ میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری
اسرائیل کی آئندہ حکومت کی فلسطینی پالیسی پر بحث ایسے وقت میں ہورہی ہے جب غزہ میں جنگ کے انسانی نقصانات بدستور سنگین ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک کم از کم 74 ہزار 494 فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ 75 ہزار 604 زخمی ہوچکے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 7 فلسطینی جاں بحق اور 24 زخمی ہوئے۔ وزارت کے اعدادوشمار کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 1,534 فلسطینی جاں بحق اور 5,486 زخمی ہوچکے ہیں، جب کہ ملبے سے 846 لاشیں برآمد کی جاچکی ہیں۔
غزہ میں ہلاکتوں کا یہ سلسلہ فلسطینیوں کے مستقبل، جنگ بندی پر عمل درآمد اور علاقے کی تعمیرِ نو سے متعلق سوالات کو مزید اہم بناتا ہے۔ ایسے میں اسرائیل کی آئندہ حکومت کا مؤقف اور ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد اس بحث کے اہم پہلو ہوں گے کہ آیا فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب کوئی عملی پیش رفت ہوسکے گی یا نہیں۔