سوتیلی بیٹی سے زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کا حکم


اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سوتیلی بیٹی سے تقریباً ایک سال تک زیادتی کرنے کے جرم میں افتخار احمد خان کو سزائے موت سنا دی ہے۔
عدالت نے مجرم کو 5 لاکھ روپے جرمانہ، متاثرہ خاتون کو 10 لاکھ روپے ہرجانہ اور بچے کی کفالت کے لیے 20 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ سزائے موت اسلام آباد ہائی کورٹ کی توثیق سے مشروط ہے۔
عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق مجرم اپنی سوتیلی بیٹی کو تقریباً ایک سال تک زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی اور 2 جولائی 2025 کو بچے کو جنم دیا۔
متاثرہ خاتون نے خوف کے باعث طویل عرصے تک اہل خانہ کو آگاہ نہیں کیا۔ بعد ازاں ان کی والدہ کی مدعیت میں 5 فروری 2025 کو تھانہ شہزاد ٹاؤن اسلام آباد میں مقدمہ درج کرایا گیا۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم نے الزامات سے انکار کیا، تاہم عدالت نے طبی شواہد اور ڈی این اے رپورٹ کو قابلِ اعتماد قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق بچے کا حیاتیاتی والد افتخار احمد خان ہونے کا امکان 99.9999996 فیصد تھا۔
عدالت نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 376(1) کے تحت جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی اور بچے کے لیے 20 لاکھ روپے معاوضہ مجرم کی جائیداد سے وصول کرکے ادا کرنے کی ہدایت کی۔
فیصلے کے مطابق ہائی کورٹ سے سزائے موت کی توثیق تک مجرم اڈیالہ جیل میں قید رہے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles