
خلا میں موجود ایک روسی ملٹری سیٹلائٹ نے غیر معمولی پیش قدمی کرتے ہوئے خود کو ایک کمرشل زمینی مشاہداتی سیٹلائٹ کے ایک میل سے بھی کم فاصلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ مذکورہ کمرشل ایٹلائٹ یوکرائن سمیت دیگر ممالک کو قومی سلامتی سے متعلق خدمات فراہم کر رہا تھا۔
مدار میں موجود خلائی کچرے اور مصنوعی سیاروں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی نجی فرم ’لیو لیبز‘ کے مطابق روسی سیٹلائٹ ’کاسموس 2612‘ کے اس اقدام کے بعد اس کی خلیائی سرگرمیوں پر مسلسل نگرانی بڑھا دی گئی ہے، کیونکہ یہ اقدام خلائی اصطلاح میں دو اسپیس وہیکلز کو قریب لانے والی مینوورنگ یا رینڈیوو آپریشنز سے مشابہت رکھتا ہے۔
خلا میں دو سیٹلائٹس کا قریب آنا یا باہمی ملاپ معمول کی بات ہے، تاہم ماہرِ فلکیات اور خلائی تجزیہ کار جوزف میک ڈویل کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہو سکتا ہے جب کسی ایک خلائی جہاز نے بغیر اجازت کسی دوسرے سیٹلائٹ کے اس قدر قریب جانے کی کوشش کی ہو۔
متاثرہ سیٹلائٹ ’آئس آئی ایکس 36‘ ایک بین الاقوامی کمپنی کا ہے جو جدید امیجنگ تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے دن ہو یا رات، اور موسم جیسا بھی ہو، زمینی سطح کی اعلیٰ معیار کی تصاویر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس کمپنی کا یوکرائن کے ساتھ ایک معاہدہ بھی ہے جس کے تحت یوکرینی مسلح افواج کو عسکری معلومات اور آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔
لیو لیبز کے اعداد و شمار کے مطابق 15 اکتوبر کو روسی سیٹلائٹ کاسموس 2612 نے آئس آئی ایکس 36 کی جانب تیزی سے پیش قدمی شروع کی اور 16 اکتوبر کی صبح تک دونوں کے درمیان فاصلہ 350 کلومیٹر سے گھٹ کر محض پانچ کلومیٹر سے بھی کم رہ گیا۔
تجزیے کے مطابق یہ روسی سیٹلائٹ ایک مرحلے پر محض 500 میٹر کے فاصلے تک پہنچ گیا تھا اور اس نے پورے ویک اینڈ کے دوران چھوٹی موٹی تبدیلیاں کر کے اس فاصلے کو برقرار رکھا۔ تاہم پیر کے روز سے روسی سیٹلائٹ واپس دور ہونا شروع ہو گیا۔
ماہرین اور دفاعی تحقیق کے اداروں کا کہنا ہے کہ روس کا یہ اقدام معلومات اکٹھی کرنے، دوسرے سیٹلائٹ کے معائنے، دھمکانے یا کمیونیکیشن میں خلل ڈالنے یعنی جیمنگ جیسی سرگرمیوں کا حصہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب سیٹلائٹ آپریٹر کمپنی نے اپنے ایک بیان میں صورت حال سے آگاہ ہونے اور پیش رفت کی مسلسل نگرانی کرنے کی تصدیق کی ہے۔
امریکی چینل ’سی این این‘ کی جانب سے تبصرے کے لیے روسی وزارتِ دفاع، فضائی و خلائی فورسز اور روسی خلائی ادارے روزکاسموس سے رابطہ کیا گیا ہے، تاہم ان کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔