محمد رضوان کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ رضوان 19 اکتوبر سے شروع ہونے والے پریذیڈنٹس ٹرافی کے آخری راؤنڈ میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی قیادت کریں گے، جہاں ان کی ٹیم کا مقابلہ خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) سے ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اور قومی کرکٹر محمد رضوان کے درمیان معاملات بہتر ہونے لگے ہیں، پی سی بی نے وکٹ کیپر بیٹر کو ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد وہ پیر 19 اکتوبر سے شروع ہونے والے پریذیڈنٹس ٹرافی کے ساتویں اور آخری راؤنڈ میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی قیادت کریں گے۔

سوئی ناردرن گیس کے ڈائریکٹر کرکٹ اور ہیڈ کوچ محمد حفیظ نے رضوان کی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پی سی بی کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک اسامہ شیرون نیازی کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ ای میل موصول ہو چکی ہے۔ پریذیڈنٹس ٹرافی کا 4 روزہ میچ راولپنڈی کے شعیب اختر کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، جہاں ایس این جی پی ایل کا مقابلہ خان ریسرچ لیبارٹریز سے ہوگا۔ محمد رضوان رواں سیزن میں پہلی مرتبہ اس ٹورنامنٹ میں حصہ لیں گے۔

انگلینڈ کے دورے کے بعد پاکستان واپسی

34 سالہ محمد رضوان ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں اگست 2026 میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں دوسرا ٹیسٹ 194 رنز سے ہارنے کے بعد پی سی بی نے ہنگامی بنیادوں پر پاکستان واپس بلا لیا تھا۔

دورہ انگلینڈ کے دوران دوسرے ٹیسٹ کے بعد رضوان کو وطن واپس بھیجنے کے معاملے کے بعد ان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت بھی زیر بحث رہی۔ ابتدا میں پی سی بی کے ایک ذریعے کے مطابق انہیں پری سیزن فٹنس ٹیسٹ میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے پریذیڈنٹس ٹرافی میں کھیلنے کا اہل قرار نہیں دیا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ بات سامنے آئی کہ این سی سی آئی اے کی جاری تحقیقات کے باعث بھی انہیں ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت نہیں ملی تھی۔

اطلاعات کے مطابق پی سی بی اور محمد رضوان کے درمیان معاملات بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ رضوان بھی مزید محاذ آرائی کے بجائے اپنی کرکٹ پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں اور انہوں نے بورڈ سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت طلب کی تھی۔

این سی سی آئی اے کی تحقیقات اور قانونی کارروائی

محمد رضوان پاکستان واپسی کے بعد نیشنل سائبر کرائمز انویسٹی گیشن ایجنسی کے سامنے دو مرتبہ پیش ہونے کے لیے طلب کیے جا چکے ہیں۔ ادارہ پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

لاہور میں این سی سی آئی اے کے دفتر میں پہلی پیشی کے بعد محمد رضوان نے ادارے کی تحقیقات کی نوعیت کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اپنا موبائل فون واپس کرنے کی درخواست بھی کی تھی، تاہم عدالت نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی جب کہ رواں ماہ کے آغاز میں ادارے کے لاہور دفتر میں دوسری مرتبہ پیش ہونے سے قبل رضوان نے این سی سی آئی اے کو خط لکھ کر تحقیقات کے حوالے سے اس کے مؤقف میں تبدیلی پر وضاحت طلب کی تھی۔

امام الحق کے خلاف بھی تحقیقات جاری

پاکستانی اوپنر امام الحق بھی این سی سی آئی اے کی تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کا موبائل فون تاحال ادارے کی تحویل میں ہے۔

امام الحق کو بھی محمد رضوان کی طرح پریذیڈنٹس ٹرافی میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی تاہم رضوان نے ادارے کے طرز عمل کو عدالت میں چیلنج کیا جب کہ امام الحق نے اس معاملے پر قانونی کارروائی نہیں کی۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق خبر فائل کیے جانے تک پی سی بی کی جانب سے امام الحق کو ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

ایس این جی پی ایل کو رضوان کی واپسی سے فائدے کی امید

محمد رضوان کی ٹیم میں واپسی ایس این جی پی ایل کے لیے اہم ہے کیوں کہ ٹیم پریذیڈنٹس ٹرافی میں تنزلی کے خطرے سے دوچار ہے۔ گزشتہ سیزن کی رنرز اپ ایس این جی پی ایل 8 ٹیموں پر مشتمل پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر ہے۔ ٹیم نے 6 میچز کھیلے ہیں، جن میں 5 ڈرا ہوئے جب کہ ایک میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

آخری راؤنڈ میں ایس این جی پی ایل کا مقابلہ پوائنٹس ٹیبل پر تیسرے نمبر پر موجود خان ریسرچ لیبارٹریز سے ہوگا۔ یہ میچ شعیب اختر کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔

محمد رضوان آئندہ ماہ شروع ہونے والی قائداعظم ٹرافی میں پشاور کی نمائندگی بھی کریں گے۔ پریذیڈنٹس ٹرافی کے آخری راؤنڈ میں ایس این جی پی ایل کی قیادت کے بعد وہ قائداعظم ٹرافی میں پشاور کی جانب سے کھیلیں گے۔

محمد رضوان کا انٹرنیشنل کیریئر

محمد رضوان پاکستان کی جانب سے اب تک 47 ٹیسٹ، 103 ون ڈے انٹرنیشنل اور 106 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں، وہ قومی ٹیم کے سابق ٹیسٹ کپتان ہونے کے ساتھ ساتھ وکٹ کیپر اور بیٹر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کے بعد اب ان کی توجہ پریذیڈنٹس ٹرافی کے آخری راؤنڈ میں ایس این جی پی ایل کی کارکردگی بہتر بنانے اور آئندہ ماہ قائداعظم ٹرافی میں پشاور کی نمائندگی پر ہوگی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles