صدر ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی انتخابات میں اپنے اتحادی اور موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے نیتن یاہو کو ’’عظیم جنگجو وزیراعظم‘‘ قرار دیتے ہوئے ایران کے خلاف امریکا کے ساتھ مل کر کارروائیاں کرنے پر ان کی تعریف کی ہے۔

اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حمایت کا اعلان کیا۔ نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ آئندہ ہفتے 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل سیاسی برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو ایک ’’عظیم جنگجو وزیراعظم‘‘ اور امن کے لیے اہم شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے فروری میں ایران کے خلاف حملے شروع کرنے میں امریکا کا ساتھ دینے پر بھی اسرائیلی وزیراعظم کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو فوجی اور مالی دونوں اعتبار سے منظم انداز میں تباہ کیا جا چکا ہے، اگر ایران نے تیزی سے اپنا طرزِ عمل تبدیل نہ کیا تو امریکا جلد اس کارروائی کو مکمل کر دے گا۔

امریکی صدر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ بی بی نیتن یاہو نے شدید مخالفت، حتیٰ کہ اسرائیل کے اندر سے آنے والی مخالفت کے باوجود مضبوطی، بہادری اور ذہانت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق مشکل ترین حالات میں بھی نیتن یاہو دباؤ کے سامنے نہیں جھکے بلکہ مزید مضبوط ہوئے اور آج بھی اسی طاقت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اسرائیلی عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم کے آئندہ انتخابات میں دوبارہ انتخاب کے لیے نیتن یاہو کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔

ایران کے خلاف جاری تنازع اپنے ساتویں ماہ میں داخل ہوچکا ہے، اس جنگ نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے جب کہ مشرق وسطیٰ میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے اور علاقائی معیشتوں میں عدم استحکام پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ کی حمایت سے نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ کو انتخابی فائدہ ملنے کے امکانات غیر یقینی ہیں۔ ایران کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات کے باعث اسرائیلی عوام میں ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق کسی بھی امیدوار کو حکومت بنانے کے لیے واضح برتری حاصل نہیں۔ اسرائیل میں وزیراعظم کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹ کے بجائے پارلیمان میں اتحادی حکومت تشکیل دینے کے عمل کے ذریعے ہوتا ہے۔

یہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل میں ہونے والے پہلے انتخابات ہوں گے، اس حملے نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور خطے میں بڑے پیمانے پر کشیدگی پیدا ہوئی تھی، اس کے بعد اسرائیل نے غزہ، لبنان اور ایران میں جنگی کارروائیاں کیں۔

آئندہ انتخابات یہ طے کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کہ نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ کے ایک اہم اور ہنگامہ خیز دور کے بعد بھی اقتدار میں رہتے ہیں یا انہیں اعتدال پسند حریفوں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کے مخالفین ملک میں ایک نئے دور کے آغاز کا وعدہ کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’ہم مل کر مشن مکمل کریں گے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی امریکا کی دیرینہ روایت سے ہٹ کر دیگر ممالک کے انتخابات میں امیدواروں کی حمایت کر چکے ہیں، ان میں ہنگری، کولمبیا، ارجنٹینا، جاپان اور ہونڈوراس کے انتخابات شامل ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles