
پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے شمالی امریکا میں قائم ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی جانب سے پھیلائی جانے والی ان اطلاعات کو شدید الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیا ہے، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی بحریہ کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
وزارت اطلاعات کے فیکٹ چیک سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اس قسم کے پوسٹس کا مقصد محض عوامی سطح پر سنسنی، مغالطے اور بے اعتمادی پیدا کرنا ہے، اور معتبر و سنجیدہ بین الاقوامی مشاہدہ کاروں کو ایسے ناپاک ایجنڈے کا حصہ بننے والے پروپیگنڈے پر کان نہیں دھرنا چاہیے۔“
یہ سرکاری ردعمل بلوچستان کے اضلاع میں پاک ایران سرحد پر تجارت کی عارضی معطلی کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق، ضلع چاغی کے ڈپٹی کمشنر بختیار اسماعیل نے سوشل میڈیا کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ سیکیورٹی خدشات اور سرحدی انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے ایران کے ساتھ تجارتی آمدورفت کو عارضی طور پر روکا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو زیادہ مؤثر اور مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، اور جیسے ہی سرحد پر مناسب حفاظتی و انتظامی انتظامات مکمل کر لیے جائیں گے، سرحد کو باضابطہ طور پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
دوسری جانب سرحدی تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے سے مقامی تاجر برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ بلوچستان میں ایران سے منسلک کراسنگ پوائنٹس کی اچانک اور غیر معینہ معطلی کے باعث برآمد کنندگان اور در آمد کنندگان کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تاجروں نے اپیل کی ہے کہ سیکورٹی کے لازمی اقدامات جلد مکمل کیے جائیں تاکہ سرحدی تجارت کی فوری بحالی ممکن ہو سکے اور معاشی خسارے کو کم سے کم کیا جا سکے۔