فرانس میں پولیس کی بم شیلنگ، 2 مظاہرین کے ہاتھ ضائع ہوگئے

فرانس میں مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے اخراجات کے خلاف احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کے بموں سے مظاہرین کے ہاتھ ضائع ہونے کے واقعات نے غیر مہلک ہتھیاروں کے استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ وسطی فرانس کے شہر سینٹ ایٹین میں ہفتے کے روز ایک مظاہرہ کرنے والا اپنا ہاتھ کھو بیٹھا، جبکہ اس سے قبل شمالی فرانس کے شہر لانس میں 15 سالہ طالب علم بھی اسی نوعیت کے واقعے میں شدید زخمی ہو گیا تھا۔

فرانس میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جانب سے استعمال کیے جانے والے بموں سے شدید زخمی ہونے کے واقعات سامنے آنے کے بعد پولیس کے طریقۂ کار اور غیر مہلک ہتھیاروں کے استعمال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) کے مطابق کیس سے واقف ذرائع نے بتایا کہ وسطی فرانس کے شہر سینٹ ایٹین میں ہفتے کے روز سکیورٹی فورسز کی جانب سے داغے گئے ایک بم کے دھماکے سے ایک مظاہرین اپنا ہاتھ کھو بیٹھا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب فرانس میں مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے اخراجات کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہیں۔ اس سے قبل اکتوبر کے اوائل میں شمالی فرانس کے شہر لانس میں طلبہ کے احتجاج کے دوران بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا۔

لانس میں 15 سالہ طالب علم اس وقت شدید زخمی ہوا جب پولیس کی کارروائی سے منسلک ایک صوتی بم اس کے ہاتھ میں پھٹ گیا۔ اے ایف پی کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ امکان ہے کہ طالب علم نے اینٹی رائٹ پولیس کی جانب سے داغے گئے بم کو اٹھا کر دور پھینکنے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ اس کے ہاتھ میں ہی پھٹ گیا۔

اس واقعے نے مظاہروں کے دوران صوتی بموں کے استعمال اور ان سے لاحق خطرات پر بحث کو مزید تیز کر دیا ہے، خصوصاً ایسے حالات میں جب احتجاج میں طلبہ اور کم عمر افراد بھی شریک ہوں۔

فرانسیسی حکام نے طالب علم کے زخمی ہونے کے واقعے کے بعد حالات واضح ہونے تک طلبہ کے احتجاج کے دوران ’ای ایف سن‘ ماڈل کے بموں کا استعمال عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دوسری جانب نیشنل پولیس کے جنرل انسپکٹریٹ نے مظاہروں کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے رویے اور کارروائیوں سے متعلق شکایات کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔

ان واقعات کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں کی نوعیت اور ان کے استعمال میں احتیاط کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

فرانس میں حالیہ احتجاج صرف مہنگائی تک محدود نہیں بلکہ تعلیم کے حالات بہتر بنانے، زندگی کے بڑھتے اخراجات اور عوام کی قوتِ خرید میں کمی کے خلاف مطالبات بھی مظاہروں کا حصہ ہیں۔ بعض مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

ہفتے کے روز فرانس کے مختلف شہروں میں احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کے گروہوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔

مظاہروں کے دوران کشیدگی اور سکیورٹی فورسز کے اقدامات پر تنقید کے باعث فرانس میں امن و امان برقرار رکھنے اور مظاہرین کو شدید چوٹوں سے محفوظ رکھنے کے لیے طاقت کے استعمال کے طریقوں پر بحث مزید بڑھ گئی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles