
بھارتی شہر کولکتہ میں درگا پوجا کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے 19 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے، جبکہ پولیس نے واقعے کے بعد منتظمین سمیت 7 افراد کو گرفتار کرلیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہفتے کی شام تقریباً 7 بج کر 40 منٹ پر چورباگان کے درگا پوجا پنڈال میں بھگدڑ مچی۔ واقعہ مذہبی تہوار کے دسویں روزہ دورانیے کے ساتویں دن پیش آیا، جب بڑی تعداد میں لوگ تقریب میں شرکت اور پنڈال دیکھنے کے لیے جمع تھے۔
پولیس نے گرفتار افراد میں چورباگان درگا پوجا کمیٹی کے سیکریٹری راج کمار سیودا اور نائب صدر شانتانو دوبے کو بھی شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ بانس کے ڈھانچے کی تعمیر سے وابستہ بپلاب مکھرجی، ہجوم کو کنٹرول کرنے کے ذمہ دار کوشک ساہا اور پنٹو ڈے، جبکہ نجی سیکیورٹی کے انچارج سمن چکرورتی اور راجیش پال کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے زخمیوں کی عیادت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پنڈال کے منتظمین کی جانب سے لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیے جانے کے بعد لوگوں میں افراتفری پھیلی، جس کے نتیجے میں یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اعلان میں کیا کہا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق دو ہلاک افراد کے اہل خانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ پنڈال میں نجی سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے سیٹی بجانے کے بعد وہاں موجود لوگوں میں بھگدڑ مچی۔
سوویندو ادھیکاری نے درگا پوجا کے دیگر منتظمین پر زور دیا کہ وہ پنڈالوں میں مناسب روشنی اور لوگوں کی آمدورفت کے لیے داخلے اور اخراج کے کافی راستوں کا انتظام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ تھیم پر مبنی بعض پنڈالوں میں سجاوٹ کے لیے روشنی کم رکھی جاتی ہے، تاہم انسانی جانیں سجاوٹ سے زیادہ اہم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ کو فرانزک ٹیم، پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس اور فائر بریگیڈ کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ واقعے کی تحقیقات کی جاسکیں۔
سانحے کے باعث مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سمیت دیگر شخصیات کے تمام سرکاری پروگرام بھی ملتوی کردیے گئے۔ امیت شاہ ہفتے کی شام کولکتہ پہنچے تھے اور اتوار کو درگا پوجا کے مختلف پنڈالوں کا دورہ کرنے والے تھے۔
واقعے کے بعد انتظامیہ نے کولکتہ کے متعدد بڑے درگا پوجا پنڈالوں کو عارضی طور پر بند کرنے اور زائرین کا داخلہ روکنے کی ہدایت کی۔
خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق تالا پرتیائے، علی پور سروجنین، چیٹلا اگراگنی اور بالی گنج سروجنین کے پنڈال بھی ان مقامات میں شامل ہیں جہاں لوگوں کا داخلہ عارضی طور پر روک دیا گیا۔