
ایران نے امریکا کے خلاف اپنے مطالبات تسلیم ہونے تک لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران نہ لامتناہی جنگ چاہتا ہے اور نہ ہی طویل مذاکرات، تاہم مطالبات کی منظوری تک جنگ جاری رہے گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تمام ڈیڈ لائنز گزر چکی ہیں، اس کے باوجود معاشی دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران بدستور قائم ہے اور اپنا نظام چلا رہا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تمام ڈیڈ لائنز گزر چکی ہیں، اس کے باوجود معاشی دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران بدستور قائم ہے اور اپنا نظام چلا رہا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ نہ تو غیر معینہ مدت تک جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے اور نہ ہی مذاکرات کو طول دینے کا خواہش مند ہے۔ تاہم ایران اپنے مطالبات تسلیم کرانے تک لڑائی جاری رکھے گا۔
انہوں نے امریکی حکومت کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائنز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام مقررہ مدتیں گزر چکی ہیں، لیکن معاشی دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود ایران اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
 October 14, 2026
)
قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نوبیل انعام برائے طبیعیات دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق امریکی معاشی دباؤ کے نتائج سے متعلق بیسنٹ کی پیش گوئیوں نے وقت کے تصور کو بے معنی بنا دیا ہے۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے دعویٰ کیا ہے کہ 40 روزہ جنگ کے بعد ایران کے پاس پہلے سے زیادہ جدید ہتھیار موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکا کی جانب سے نئے حملے غیر معقول ہوں گے، تاہم ایسے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔
حسین محبی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی کامیابی کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی قیادت کے یہ بیانات تہران کے سرکاری مؤقف اور دعوؤں کی عکاسی کرتے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔