امریکا میں الیکشن دفاتر کو پراسرار سفید پاؤڈر سے بھرے مشکوک خطوط موصول

امریکا کی متعدد ریاستوں میں انتخابی دفاتر کو سفید پاؤڈر پر مشتمل مشکوک خطوط موصول ہونے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے تحقیقات شروع کردیں۔ لوزیانا اور اوکلاہوما میں حکام نے خطوط ملنے پر انتخابی دفاتر خالی کرا لیے، جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور امریکی ڈاک سروس کے انسپکشن حکام واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق لوزیانا اور اوکلاہوما کے حکام نے منگل کو مشکوک خطوط موصول ہونے کی تصدیق کی۔ پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کی۔ ان واقعات میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

اوہائیو کے سیکریٹری آف اسٹیٹ فرینک لاروز نے بدھ کو بتایا کہ ان کا دفتر بھی مشکوک خط وصول کرنے والا تھا، تاہم ڈاک سروس نے اسے دفتر تک پہنچنے سے پہلے ہی روک لیا۔

ایف بی آئی نے بدھ کی رات جاری بیان میں کہا کہ ملک بھر میں مختلف پتے پر مشکوک خطوط بھیجے گئے ہیں، جن میں ریاستوں کے سیکریٹریز آف اسٹیٹ کے دفاتر اور ان سے متعلق انتخابی دفاتر بھی شامل ہیں۔

ایف بی آئی کے مطابق بعض خطوط میں نامعلوم مادہ موجود تھا۔ ادارہ ہر واقعے سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، جبکہ خطوط بھیجنے والے فرد یا افراد کی شناخت کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

ریاستی سیکریٹریز آف اسٹیٹ کی قومی انجمن اور ریاستی انتخابی ڈائریکٹرز کی قومی انجمن نے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں تنظیموں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ انتخابی حکام اور عملے کو اپنی اہم ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اپنی سلامتی کے حوالے سے خوف کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

امریکا میں انتخابی حکام کو اس نوعیت کے مشکوک اور دھمکی آمیز خطوط پہلے بھی موصول ہوتے رہے ہیں۔ ستمبر 2024 میں صدارتی انتخابات سے چند ہفتے قبل کم از کم چھ ریاستوں کے انتخابی حکام کو پاؤڈر پر مشتمل مشکوک پیکٹ بھیجے گئے تھے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سابق قائم مقام انڈر سیکریٹری برائے انٹیلی جنس و تجزیہ جان کوہن نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں انتخابی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سائبر حملوں اور جسمانی سلامتی سے متعلق مختلف نوعیت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

ان کے مطابق خطرات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، ان میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے اور یہ خطرناک نوعیت اختیار کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ریاستی اور مقامی حکام اب ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے پہلے سے زیادہ بہتر طور پر تیار ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles