
برطانوی اخبار دی گارڈین نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ قیادت امن بورڈ کے لیے مجوزہ جدید فوجی اڈے کی تعمیر میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔ منصوبے کا ٹھیکہ دو ماہ سے زائد عرصہ قبل ایک امریکی کمپنی کو دیا گیا تھا، تاہم تعمیراتی سامان، ٹرکوں اور ٹھیکیداروں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے باعث کام شروع نہیں ہو سکا۔
جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی اخبار دی گارڈین نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ اسرائیل تعمیراتی کام شروع کرنے کے لیے ضروری ٹھیکیداروں اور ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر رہا ہے، جس کے باعث منصوبہ تاحال تعطل کا شکار ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس فوجی اڈے میں 150 بین الاقوامی فوجیوں کی تعیناتی کی گنجائش ہوگی۔ اسے غزہ میں تعینات کی جانے والی مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس کے قیام کی جانب پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
اخبار نے معاملے سے براہِ راست واقف ایک شخص کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ برس اگست میں تعمیراتی ٹھیکہ جاری ہونے کے باوجود اسرائیلی مؤقف کے باعث منصوبے پر کام شروع نہیں ہو سکا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل سرحدی گزرگاہ نہیں کھولے گا۔ اس صورت حال کے باعث منصوبے کے لیے درکار مشینری اور کارکنوں کی غزہ میں آمد ممکن نہیں ہو رہی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں قائم امن بورڈ نے اگست کے اوائل میں غزہ میں تعمیرات کا پہلا ٹھیکہ امریکی ریاست لوزیانا میں قائم کمپنی آرکل انٹرنیشنل کو دیا تھا۔
معاہدے کے تحت ایک جدید فوجی اڈہ تعمیر کیا جانا ہے، جہاں 150 بین الاقوامی فوجیوں کی تعیناتی کی گنجائش ہوگی۔ یہ اڈہ غزہ میں بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی کے منصوبے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
تاہم ٹھیکہ دیے جانے کے دو ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تعمیراتی کام شروع نہیں ہو سکا، کیونکہ اسرائیل ٹھیکیداروں اور ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہا۔
اخبار کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اسرائیل منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے کن وجوہات کی بنیاد پر یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے اور آیا ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کوئی مذاکرات جاری ہیں یا نہیں۔
دی گارڈین کے مطابق امن بورڈ کے ترجمان نے رپورٹ میں سامنے آنے والی معلومات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ اسرائیلی فوج اور حکومت نے بھی اس معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا۔
اخبار کے مطابق غزہ میں اکتوبر 2025 میں جنگ بندی کے بعد امن بورڈ قائم کیا گیا تھا، جو غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔
فوجی اڈے کی تعمیر میں رکاوٹوں کے باعث غزہ میں امن بورڈ کے مجوزہ سکیورٹی انتظامات کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ اس اڈے کو بین الاقوامی استحکامی فورس کی تعیناتی کی جانب پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
تاحال تعمیراتی کام شروع کرنے کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ منصوبے پر پیش رفت کا انحصار ٹھیکیداروں، کارکنوں اور تعمیراتی سامان کو غزہ میں داخلے کی اجازت ملنے پر ہے۔