
سری لنکا کے ٹیسٹ کپتان دھننجایا ڈی سلوا نے پاکستان کے خلاف آئندہ ماہ ہونے والی 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز سے قبل ٹیسٹ ٹیم کی قیادت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
سری لنکا کرکٹ کے مطابق دھننجایا ڈی سلوا نے سری لنکا کی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی چھوڑ دی ہے تاہم وہ بطور کھلاڑی ٹیم کے لیے دستیاب رہیں گے۔ دھننجایا ڈی سلوا نے قیادت ’’اگلی نسل‘‘ کو منتقل کرنے کی خواہش کے باعث کپتانی سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔
سری لنکا کی اگلی ٹیسٹ مصروفیت پاکستان کے خلاف 2 میچز کی سیریز ہے، جس کا آغاز 9 نومبر کو راولپنڈی میں ہوگا۔ سری لنکا کے نئے ٹیسٹ کپتان کا نام ابھی سلیکٹرز کی جانب سے سامنے نہیں آیا۔
دھننجایا ڈی سلوا کی قیادت میں سری لنکا نے 7 ٹیسٹ میچز جیتے اور 8 میں شکست کا سامنا کیا جب کہ 3 میچز ڈرا ہوئے۔
رواں سال سری لنکا نے ڈی سلوا کی قیادت میں دونوں ٹیسٹ سیریز 0-1 سے گنوائیں، پہلے ویسٹ انڈیز کے خلاف اور پھر بھارت کے خلاف ہوم سیریز میں شکست ہوئی۔
2024 دھننجایا ڈی سلوا کی بطور کپتان بہترین کارکردگی کا سال رہا۔ سری لنکا نے بنگلادیش کے خلاف سیریز 0-2 سے جیتی، دی اوول میں کامیابی حاصل کی جب کہ نیوزی لینڈ کو ہوم سیریز میں 0-2 سے شکست دی۔
دھننجایا ڈی سلوا کی کپتانی کے دوران سری لنکا کو جنوبی افریقا کے خلاف ایک اور آسٹریلیا کے خلاف 3 مسلسل ٹیسٹ میچز میں شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
سری لنکا کی ٹیسٹ کرکٹ میں اس عرصے کے دوران ایک اہم مسئلہ میچز کی کم تعداد بھی رہی۔ جون 2025 میں بنگلادیش کے خلاف ہوم سیریز 0-1 سے جیتنے کے بعد سری لنکا نے مکمل 12 ماہ تک کوئی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا۔
موجودہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل میں بھی سری لنکا کے شیڈول میں صرف 12 ٹیسٹ میچز شامل ہیں، جو کم سے کم تعداد ہے۔
سری لنکا کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ایشلے ڈی سلوا نے دھننجایا ڈی سلوا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور بطور کھلاڑی ان کی دستیابی کا خیرمقدم کیا۔
رواں سال کے آغاز میں کوشال مینڈس کو سری لنکا کی وائٹ بال ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا جب کہ چرتھ اسالنکا سے قیادت واپس لے لی گئی تھی۔ ٹیسٹ کپتان کے لیے بھی کوشال مینڈس ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن پر سلیکٹرز غور کرسکتے ہیں۔