یمن کی حالیہ لڑائی کے دوران 2 لاکھ سے زائد افراد بے گھر، حالات تشویش ناک قرار

یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حامی افواج اور حوثی گروہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے یمن کی موجودہ صورتِ حال کو انتہائی خطرناک اور تشویش ناک قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے عالمی ادارہ برائے مہاجرین (آئی او ایم) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے پہلے ہفتے میں جھڑپوں میں شدت کے باعث یمن کے مختلف صوبوں میں ہونے والی نقل مکانی میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ستمبر کے وسط تک بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 76 ہزار تھی جو کچھ ہی روز میں 2 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ نقل مکانی کرنے والوں کی اکثریت ستمبر میں شروع ہونے صورتِ حال کے بعد گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقام پر منتقل ہوئے ہیں۔

آئی او ایم کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ کا کہنا ہے کہ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کے لیے کوئی مناسب جگہ یا محفوظ موجود نہیں ہے۔

انہوں نے متاثرین کے لیے خوراک اور پناہ گاہوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیشِ نظر عالمی برادری سے ہنگامی فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں میں یمن کی 10 مختلف گورنریٹس (صوبوں) کے شہری شامل ہیں، جس میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا گورنریٹ ’تعز‘ ہے۔ اس کے علاوہ 3 ہزار 700 سے زائد یمنی شہری سمندری راستے سے نقل مکانی کر کے افریقی ملک جبوتی پہنچ چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں 2022 میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد سعودی عرب و اسکی حمایت یافتہ فورسز اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی بڑی حد تک تھم گئی تھی جو اب ایک بار پھر خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔

یمن کے شمال میں واقع بیشتر علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعا پر اس وقت حوثی گروپ کا کنٹرول ہے۔ حوثیوں نے گزشتہ ماہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے زیرِ کنٹرول بحیرہ احمر کے پورے ساحلی علاقے پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔

رواں ہفتے یمنی حکومت نے ’آپریشن فجر الیمن‘ کے نام سے حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔ جس کا باقاعدہ اعلان 5 اکتوبر کو یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کیا۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد حوثی باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینا، ملک کے اہم ترین بحری راستوں اور دارالحکومت صنعاء پر کنٹرول بحال کرنا ہے۔

اس آپریشن کے نتیجے میں حکومتی فورسز نے بحیرہ احمر کے انتہائی اہم تجارتی بحری راستے ’آبنائے باب المندب‘ سمیت ذباب کی بندرگاہ، ایئرپورٹ اور اہم شہر ’المخا‘ پر کنٹرول واپس لینے، بڑی تعداد میں حوثیوں جنگجوؤں کی ہلاکت اور اہم اثاثے تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’ورلڈ پروگرام‘ نے بھی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ یمن کے بعض علاقوں میں ہر چار میں سے تین خاندان شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ادارے کے مطابق حالیہ لڑائی میں اضافے کے اثرات انتہائی تباہ کن ہیں جس کے نتیجے میں یہ انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles