
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہوگا اور کوشش ہے کہ اس آپشن تک نہ جانا پڑے تاہم اگر کوئی راستہ باقی نہ بچا تو دارالحکومت کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔
بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے حتمی فیصلہ حالات اور دستیاب آپشنز کو دیکھ کر کیا جائے گا، حکومت گورنر راج سمیت تمام آئینی اور قانونی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ گورنر راج آخری آپشن ہوگا، حکومت کی کوشش ہے کہ وہاں تک نہ جانا پڑے تاہم اگر کوئی راستہ باقی نہ بچا تو دارالحکومت کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر دو تین ماہ بعد لشکر کشی کے ذریعے دارالحکومت پر حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اگر دارالحکومت پر حملہ کیا جائے گا تو حکومت کو اپنے تحفظ کا حق حاصل ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ عوام میں اتنا سیاسی شعور موجود ہے کہ وہ موجودہ صورت حال کو سمجھ سکتے ہیں، ہزاروں پاکستانیوں کے خون میں ملوث قوت کے ساتھ سیاسی اتحاد اور تعاون قابل قبول نہیں۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور طالبان کے درمیان روابط کے حوالے سے شواہد موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن طالبان کی اتحادی نہیں بنی جب کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی دہشت گردی سے لاتعلقی اور مجرمانہ بے حسی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کی زد میں ہے لیکن وزیراعلیٰ اور کابینہ سیاسی لانگ مارچ میں مصروف ہیں۔ اہم فیصلے کرنے کا وقت آچکا ہے، پورے صوبے کو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا اور ملک کی وحدت کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا۔
وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو مزید نااہل اور بے حس حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔
اسلام آباد میں چڑھائی نہیں ہونے دیں گے: طارق فضل
دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسلام آباد میں کسی بھی صورت چڑھائی نہیں ہونے دے گی، 12 اضلاع میں صوبائی حکومت کی کسی قسم کی عمل داری نہیں ہے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی دیکھ بھال کے لیے ہر ممکن بہترین اقدامات کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور کا مزید کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور ارکان کی تقرریاں آئینی معاملہ ہیں تاہم ان تقرریوں کے عمل میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی رکاوٹ ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر سے دو مرتبہ رابطہ کیا تاہم انہوں نے ملاقات سے انکار کردیا، اپوزیشن لیڈر اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے۔
پی ٹی آئی لانگ مارچ
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان کشیدگی کے دوران تحریک انصاف نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ مارچ ابتدا میں 27 ستمبر کو شروع ہونا تھا تاہم وفاق اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے باعث اسے مؤخر کرکے 4 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی گئی۔
وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیکیورٹی معاملات اور بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی سمیت مختلف امور زیر بحث رہے تاہم فریقین کے درمیان اتفاق نہ ہوسکا اور مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی نے لانگ مارچ شروع کردیا۔
4 اکتوبر کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے لکی مروت کے گنڈی چوک سے اسلام آباد کی جانب مارچ کا آغاز کیا۔ مارچ میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی و شمالی وزیرستان، بنوں اور لکی مروت سے کارکنوں نے شرکت کی۔
مارچ کے پہلے مرحلے میں قافلہ کرک کی جانب بڑھا، جہاں رات قیام کا اعلان کیا گیا۔ ڈی آئی خان سے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آنے والا قافلہ بھی مارچ میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہوا تاہم راستے میں رکاوٹوں اور سیکیورٹی صورت حال کے باعث اسے واپس ڈی آئی خان جانا پڑا۔
پی ٹی آئی کے مطابق مارچ کا مقصد اسلام آباد پہنچ کر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی سمیت اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کرنا ہے جب کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے مظاہرین کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے انتظامات کیے ہیں۔
موجودہ صورت حال میں لانگ مارچ کے معاملے پر وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی برقرار ہے جب کہ حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج سمیت آئینی و قانونی آپشنز زیر غور ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔