بھارت میں ووٹر لسٹوں پر تنازع؟ 10 اکتوبر کے احتجاج میں کیا ہونے والا ہے؟

بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے معاملے پر احتجاجی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ 10 اکتوبر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کی تیاری کی جارہی ہے، جس میں طلبہ، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے وابستہ افراد کی شرکت متوقع ہے۔

آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آیسا) کی قومی صدر نیہا بورا نے بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے خلاف جاری احتجاج کو وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے 10 اکتوبر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر بڑے مظاہرے میں شرکت کی اپیل کی ہے۔

کولکتہ میں پریس کانفرنس کے دوران نیہا بورا نے کہا کہ صرف انڈیا اتحاد میں شامل جماعتوں ہی نہیں بل کہ تمام سیاسی قوتوں، عام شہریوں اور سول سوسائٹی کو بھی اس احتجاج میں شامل ہونا چاہیے جو ووٹ کے حق کے تحفظ کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہوکر وسیع تر اتحاد بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نیہا بورا نے 10 اکتوبر کے احتجاج میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔ یہ احتجاج ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی جانب سے بلایا گیا ہے، جس میں مختلف طلبہ تنظیمیں بھی شریک ہوں گی۔ بدھ کو احتجاج کے منتظمین نے نئی دہلی پولیس کو بھی مظاہرے سے متعلق باضابطہ اطلاع دے دی ہے۔

احتجاج کا بنیادی تنازع بھارت کے انتخابی فہرستوں کی اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) سے متعلق ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اس عمل کا مقصد انتخابی فہرستوں میں اہل شہریوں کے نام یقینی بنانا، غیر اہل ووٹروں کو خارج کرنا اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں شفافیت برقرار رکھنا ہے۔

دوسری جانب احتجاج کرنے والی جماعتوں اور طلبہ تنظیموں کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج کیے گئے، جس سے ان کے ووٹ کے حق کو خطرہ لاحق ہے۔ نیہا بورا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس عمل کے دوران کروڑوں نام حذف کیے گئے اور پورے عمل کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ اعداد و شمار اور الزامات متنازع ہیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی مکمل تائید نہیں کی گئی۔

نیہا بورا نے انتخابی کمیشن پر جانبداری کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ووٹ کے حق سے متعلق معاملے پر مختلف سیاسی اور سماجی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔ ان کے مطابق احتجاج صرف ایک ادارے یا ایک عہدے دار کے خلاف نہیں بل کہ انتخابی نظام میں وسیع تر اصلاحات کے مطالبے سے جڑا ہوا ہے۔

10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے نئی دہلی میں مظاہروں کا سلسلہ پہلے ہی کئی دن سے جاری ہے۔ 2 اور 3 اکتوبر کو جنتر منتر کی جانب مارچ کرنے والے طلبہ، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کو پولیس کی جانب سے روکے جانے اور حراست میں لیے جانے کے واقعات سامنے آئے۔

3 اکتوبر کے احتجاج میں نیہا بورا بھی پولیس کی تحویل میں لی گئی تھیں اور بعد میں رہا کردیا گیا۔ پولیس نے مظاہرین پر ڈیوٹی انجام دینے والے اہل کاروں سے تصادم اور دیگر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے، جب کہ مظاہرین نے پولیس کارروائی پر اعتراض کیا۔

6 اکتوبر کو اپوزیشن اتحاد کے ارکان نے بھی پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کی کوشش کی، جسے دہلی پولیس نے روکا اور متعدد افراد کو حراست میں لیا۔ اس طرح ایس آئی آر کا معاملہ اب طلبہ تنظیموں کے احتجاج سے بڑھ کر اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کی وسیع تر سیاسی مہم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

نیہا بورا گزشتہ کئی ماہ کے دوران بھارت کی طلبہ احتجاجی سیاست میں نمایاں چہرہ بن کر سامنے آئی ہیں۔ وہ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ ان کا شمار ان طلبہ رہنماؤں میں ہوتا ہے جو تعلیم، نوجوانوں کے مسائل اور سیاسی و جمہوری حقوق سے متعلق احتجاجی سرگرمیوں میں فعال رہے ہیں۔

رواں برس وہ دہلی میں 23 روزہ بھوک ہڑتال میں بھی شریک رہیں، جب کہ مختلف طلبہ احتجاجوں میں ان کی شرکت کے باعث وہ قومی سطح پر زیادہ نمایاں ہوئیں۔ اگست میں ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ طلبہ تحریکیں محض کسی فرد یا سیاسی جماعت کے گرد نہیں بل کہ مشترکہ مسائل کے گرد منظم ہونی چاہئیں۔

موجودہ احتجاج میں ان کی تنظیم آیسا نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے ساتھ بھی تعاون کیا ہے۔ اس نوجوان تحریک نے اس سے قبل امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر احتجاج کیا تھا، جب کہ اب اس کی توجہ انتخابی فہرستوں اور چیف الیکشن کمشنر کے کردار پر مرکوز ہے۔

دوسری جانب انتخابی فہرستوں اور چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں سے متعلق تنازع اب عدالتی سطح پر بھی پہنچ چکا ہے۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے 5 اکتوبر کو ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں پر الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین سے جواب طلب کیا، تاہم عدالت نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی عبوری معطلی کا مطالبہ فوری طور پر منظور نہیں کیا۔

10 اکتوبر کا احتجاج اس لیے بھی اہم قرار دیا جارہا ہے کہ منتظمین اور طلبہ تنظیمیں اسے بڑے عوامی اجتماع میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ نیہا بورا کا کہنا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے درمیان وسیع تر اتحاد بنایا جائے تاکہ ووٹ کے حق اور انتخابی نظام سے متعلق مطالبات کو مزید قوت مل سکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles