سعودی عرب، پاکستان، ترکیہ کی دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس، فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کا فیصلہ


سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کی اسٹریٹجک دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں کی فوری تعیناتی اور اجتماعی دفاع کے وعدوں پر فوری عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی مذمت کی گئی، جبکہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو مکہ الائنس برائے دفاع کا سیکریٹری جنرل مقرر کردیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود کو مکہ الائنس برائے دفاع کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کردیا گیا۔ ان کی مدتِ عہدہ تین سال ہوگی۔ تینوں فریقوں نے تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور الائنس کے فروغ میں ان کے کردار پر اعتماد ظاہر کیا۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کی گئی، جب کہ سعودی عرب کے شہروں، شہریوں اور اقتصادی تنصیبات پر مسلسل حملوں کو بھی مسترد کیا گیا۔ فریقین نے سعودی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا خطرے کو ناقابل قبول قرار دیا۔
پاکستان اور ترکیہ نے سعودی مسلح افواج کی چوکسی، تیاری، پیشہ ورانہ مہارت اور خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو سراہا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اجتماعی دفاع کے وعدوں پر فوری عملی اقدامات کیے جائیں گے اور متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
اعلامیے کے مطابق منظور شدہ انتظامات اور متعلقہ قومی قوانین کے تحت فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی سعودی عرب میں فوری تعیناتی بھی کی جائے گی۔ فریقین کے مطابق ان فیصلوں سے عسکری تیاری، باہمی انضمام اور مختلف خطرات کا مقابلہ کرنے کی اجتماعی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔

تینوں ممالک نے واضح کیا کہ ہر ملک کی سلامتی تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کا لازمی حصہ ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا اجتماعی دفاع کے عزم کی ساکھ اور دفاعی بازداریت کی مؤثریت کو مضبوط بناتا ہے۔
سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم کی بھی تجدید کی اور کہا کہ تینوں ممالک مکہ معاہدے کی شقوں کے مطابق ان مقاصد کے حصول کے لیے اقدامات کریں گے۔
اس سے قبل سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ریاض میں مکہ الائنس کے ہنگامی اجلاس کے بعد کہا تھا کہ اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی نے سعودی عرب اور مقدس مقامات پر حوثیوں کے حملوں کے خلاف رکن ممالک کے اتحاد اور یک جہتی کا اعادہ کیا ہے۔
شہزادہ خالد بن سلمان کے مطابق کمیٹی نے حملوں اور ان کے تمام ذمہ داروں کے خلاف الائنس کے دائرہ کار میں اجتماعی بازدار اقدامات فعال کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں سعودی عرب اور مقدس مقامات پر حوثیوں کے ’سنگین حملوں‘ کے مقابلے میں تینوں ممالک کی یک جہتی اور اتحاد کی توثیق کی گئی۔
اجلاس کے فیصلوں کے حوالے سے سعودی وزیر دفاع نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مکہ الائنس کے فریم ورک کے تحت سعودی عرب کو درپیش حملوں اور ان کے ذمہ داروں کے خلاف اجتماعی ردعمل کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles