
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے غیر ملکی میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں داخلے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کے لیے ایم ڈی کیٹ کی لازمی شرط ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینتل کونسل کی جانب سے پبلک نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس کے مطابق غیرملکی میڈیکل و ڈینٹل اداروں میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پی ایم ڈی سی نے یہ فیصلہ 14 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں کیا جب کہ کونسل کے فیصلے کے بعد غیرملکی میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں داخلے کے لیے پاکستانی طلبہ کو ایم ڈی کیٹ سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
کونسل کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کے مطابق غیر ملکی میڈیکل اور ڈینٹل اداروں میں داخلے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے ایم ڈی کیٹ پاس کرنا لازمی نہیں ہوگا۔
پی ایم ڈی سی کو مصطفی کمال کا خط موصول
دوسری جانب ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ سندھ میں مبینہ بے ضابطگی کے معاملے پر پاکستان میڈیکل اور ڈینٹل کونسل کو وزیر صحت مصطفی کمال کا خط موصول ہوگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ایم ڈی سی نے ایم ڈی کیٹ بارے اختیارات پر قانونی رائے لینے کا فیصلہ کیا ہے، پی ایم ڈی سی شعبہ لیگل سے ایم ڈی کیٹ بارے اختیارات پر رائے طلب کی گئی ہے۔
پی ایم ڈی سی قانونی رائے کے تحت وزیر صحت کی ہدایات پر عملدرآمد کرے گی، پی ایم ڈی سی کی ایم ڈی کیٹ پرچے کے حوالے سے اختیارات محدود ہیں، پی ایم ڈی سی ایم ڈی کیٹ سے متعلقہ کسی عمل کی براہ راست زمہ دار نہیں، تحقیقات مجاز میڈیکل یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے، پی ایم ڈی سی سندھ میں ایم ڈی کیٹ تحقیقات کے لیے تعاون کرے گی۔
ذرائع پی ایم ڈی سی کے مطابق ایم ڈی کیٹ پیپر تیاری، پرنٹنگ، سٹوریج، ترسیل اور انعقاد کی ذمہ دار جامعات تھیں، پی ایم ڈی سی کو ایم ڈی کیٹ بارے تاحال براہ راست شکایت موصول نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے گزشتہ ہفتے سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے انعقاد اور نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات کا سخت نوٹس لیا تھا اور پی ایم ڈی سی کو 15 یوم میں رپورٹ دینے کی ہدایت کی تھی۔