یمنی حوثیوں کا باب المندب سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے پر غور

یمن کے حوثی باغی بحیرۂ احمر میں واقع اہم سمدری راستے ’باب المندب‘ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں سے فیس وصولی کا اعلان کیا تھا، جسے امریکا نے مسترد کر دیا تھا۔ ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ حال ہی میں خلیجی ممالک کی مشاورت سے پیش کیے گئے عمان کے منصوبے کو ایران نے مسترد کردیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی تحریک ’انصاراللہ‘ باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس عائد کرنے کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ابھی کوئی حتمی ٹائم فریم طے نہیں کیا گیا۔

حوثی تحریک نے 20 جولائی کو سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے جاری کشیدگی میں ایک نیا محاذ کھل گیا تھا۔ اس اعلان کے بعد خلیجِ فارس کے بعد تجارتی جہازوں پر حملوں کا دائرہ بحیرہ احمر تک پھیل گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق حوثی رہنما جولائی میں ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران گئے تھے، جہاں ان کی ایرانی حکام کے ساتھ باب المندب سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔

رائٹرز نے اس معاملے سے واقف حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اس منصوبے کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔ پہلا بین الاقوامی سمندری راستوں پر فیس وصول کرنے کے عمل کو معمول بنانا اور دوسرا امریکا پر دباؤ میں اضافہ کرنا۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس مجوزہ منصوبے کے تحت چینی جہازوں کو فیس سے استثنیٰ دیا جا سکتا ہے اور اس میں حوثیوں کی رضامندی بھی شامل ہے۔

چین سعودی عرب سے تیل درآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ ذرائع کے مطابق بحیرۂ احمر کے جنوبی حصے سے اپنے آئل ٹینکرز کے محفوظ انخلا کے لیے چین پہلے ہی حوثیوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کر چکا ہے۔

ایک عرب عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ تہران سے واپس آنے والے حوثی وفد کے ساتھ ایرانی مشیر بھی یمن پہنچے تھے، جو باب المندب میں فیس وصول کرنے کے لیے ممکنہ انتظامی اتھارٹی کے قیام میں رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔

یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی نامزد وزیر خارجہ افراح الزوبہ کا کہنا ہے کہ حوثی بحیرۂ احمر پر اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر انہیں موقع ملا تو وہ جہازوں سے فیس وصول کرسکتے ہیں۔

دو مغربی سفارت کاروں کے مطابق اگر حوثیوں نے اس منصوبے پر عمل کیا تو اسے خلیجی اور یورپی ممالک کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم اس وقت بین الاقوامی بحری افواج تجارتی جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کر دی ہے، جس میں جہازوں سے رضاکارانہ فیس وصول کرنے کی تجویز شامل تھی۔ اس فیصلے کے بعد خلیج سے تیل کی عالمی ترسیل میں جاری تعطل کے خاتمے کی امیدوں کو بھی دھچکا پہنچا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر باب المندب میں آمدورفت متاثر ہوئی تو سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی، جس سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ نومبر 2023 میں غزہ جنگ کے دوران حوثیوں نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملے شروع کیے تھے، جو گزشتہ سال اکتوبر میں غزہ جنگ بندی کے بعد بند ہوگئے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سعودی شہر جازان کے قریب ایک سعودی آئل ٹینکر پر بھی حملہ ہوا تھا، جس کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی تھی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے 2024 کی ایک رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ حوثیوں نے اپنی بحری کارروائیوں کے دوران بعض شپنگ ایجنسیوں سے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کے عوض فیس وصول کی، تاہم رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

اسی رپورٹ کے مطابق ایسی فیسوں سے ممکنہ آمدنی 180 ملین ڈالر ماہانہ تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا تھا، تاہم اس اعداد و شمار کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹ کے مطابق باب المندب کے راستے ایشیا تک بحری سفر اوسطاً 16 دن میں مکمل ہوتا ہے جب کہ متبادل راستے سے بحیرۂ احمر، نہر سویز اور جنوبی افریقہ کے گرد سفر کرنے کی صورت میں یہی سفر تقریباً 50 دن طویل ہو جاتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles