
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا پر مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مسلسل خلاف ورزیوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔ جتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں امریکا کے لیے ’بڑا شیطان‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔
ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان میں امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جبر، آمریت اور سفاکیت امریکی نظریے اور پالیسی کا لازمی حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے صدور کے درمیان دستخط ہونے والے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط ناقابلِ اعتبار ہیں اور ان کی کوئی ساکھ نہیں ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کو ’بڑا شیطان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات امریکا کی مجرمانہ کارروائیوں، بے ایمانی، ناقابلِ اعتبار ہونے اور بدنیتی کا ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت ہیں، جس سے اس بڑے شیطان کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے ایرانی عوام کو اتحاد برقرار رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں جنوبی ایران کے عوام کا عزم اور بہادری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران اپنے مخالفین کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے جنگ کو مزید بھڑکانے کی کوشش کی تو یہ اقدام اس کے لیے مزید نقصان اور بدنامی مول لینے کا سبب بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کو یہ جان لینا چاہیے کہ ایرانی قوم اور مزاحمتی قوتیں اسے ناقابلِ فراموش سبق سکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی قوم کے لیے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں جب ملک کو ایک مکار دشمن کا سامنا ہے۔ سب سے زیادہ ضرورت عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان یکجہتی اور سب سے اہم ذمہ داری ایران کے وقار، آزادی اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔