امریکی حملوں کے بعد ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد روک دیا

ایران نے امریکا کے ساتھ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عمل درآمد معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں کے تسلسل اور معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد وہ اب اس مفاہمتی یادداشت کی کسی شق پر عمل کرنے کا پابند نہیں رہا۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ اور مذاکراتی ٹیم کے رکن کاظم غریب آبادی نے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے تمام وعدے عملاً معطل کر دیے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ واشنگٹن نے مسلسل فوجی کارروائیوں کے ذریعے معاہدے کی روح کو ختم کر دیا، جس کے بعد ایران نے بھی اپنی تمام ذمہ داریاں معطل کر دی ہیں اور اس وقت اس کی اولین ترجیح ملک کا دفاع ہے۔

غریب آبادی نے کہا کہ ایران اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا، تاہم یہ پہلا موقع ہے جب تہران نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کسی بھی شق پر مزید عمل درآمد نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں معاہدے پر عمل ممکن نہیں رہا۔

ادھر امریکی حملوں کے اثرات ایران کے مختلف علاقوں میں بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق صوبہ ہرمزگان میں امریکی حملوں کے نتیجے میں 116 ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز تباہ ہو گئے، جس کے باعث بندر عباس، حاجی آباد اور شمالی علاقوں میں موبائل فون، لینڈ لائن اور انٹرنیٹ سروسز شدید متاثر ہوئی ہیں۔

اسی دوران خوزستان کے نائب گورنر برائے سیکیورٹی ولی اللہ حیاتی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دس روز کے دوران امریکا نے صوبے کے 95 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں 12 اضلاع شامل ہیں۔

ان کے مطابق ان حملوں میں کم از کم آٹھ شہری شہید ہوئے، جب کہ ایران کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ 6 جولائی سے اب تک امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد شہید اور 500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles