علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینا قوم کا مطالبہ ہے: مجتبیٰ خامنہ ای

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو اس کارروائی کا حساب دینا ہوگا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان بیانات کی جنگ جاری ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ’فارس‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک بیان میں کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینا ایرانی قوم کا مطالبہ ہے اور یہ وعدہ ہر صورت پورا کیا جائے گا۔

بیان میں مرحوم رہبرِ انقلاب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا گیا، ’’ہم آپ کے پاک خون اور ان دونوں جنگوں کے تمام شہدا کے خون کا بدلہ ان مجرم اور رسوا قاتلوں سے لینے کا عہد کرتے ہیں۔‘‘

مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے منسوب بیان میں مزید کہا گیا کہ ’’ان مجرموں کے نام اوپر سے نیچے تک معلوم اور دستاویزی شکل میں موجود ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ معاملہ میری یا دیگر حکام کی موجودگی سے مشروط نہیں ہے۔‘‘ بیان کے مطابق یہ عہد جلد پورا کیا جائے گا، خواہ موجودہ قیادت موجود ہو یا نہ ہو۔

یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انتباہ کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران نے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی تو امریکا ایران کو ’’تباہ‘‘ کر دے گا۔

دوسری جانب امریکی اور اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تہران کے بعض سخت گیر حلقوں میں ٹرمپ کے خلاف کارروائی کی خواہش پائی جاتی ہے، تاہم امریکی انٹیلی جنس کے حالیہ جائزوں میں کسی نئے یا مخصوص ایرانی منصوبے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنی تقرری کے بعد سے اب تک عوامی سطح پر منظرِ عام پر نہیں آئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ فروری میں ہونے والے اس حملے میں وہ زخمی بھی ہوئے تھے جس میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای، والدہ اور اہلیہ شہید ہوئے تھے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق وہ جنگ کے آغاز سے اب تک اپنے حامیوں سے صرف تحریری بیانات کے ذریعے رابطے میں ہیں اور نہ ہی کسی عوامی تقریب میں شریک ہوئے ہیں اور نہ ہی کوئی ویڈیو یا آڈیو پیغام جاری کیا ہے۔ ہفتے کو جاری ہونے والا یہ پیغام بھی ان چند بیانات میں سے ایک ہے جو ان کی بطور سپریم لیڈر تقرری کے بعد منظرِ عام پر آئے ہیں۔

دریں اثنا، ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے ایک الگ پیغام میں اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک افراد کا شکریہ ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے مختلف شہروں، خصوصاً تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت تاریخی اور قابلِ تحسین تھی۔ ان کے بقول لاکھوں افراد کی موجودگی نے آیت اللہ علی خامنہ ای سے عوامی وابستگی اور عقیدت کا اظہار کیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سوگواری اور تدفین کی تقریبات میں شرکت کی۔ تاہم ان کی اپنی موجودگی کے حوالے سے بدستور سوالات برقرار ہیں، کیونکہ جنگ کے آغاز کے بعد سے وہ عوامی سطح پر دکھائی نہیں دیے اور ان کی صحت و مقامِ قیام سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں گردش کرتی رہی ہیں۔

آخری رسومات کی کئی روزہ تقریبات میں بھی ان کی شرکت کی کوئی واضح اطلاع سامنے نہیں آئی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles