‘کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جائے گا’: ایران کی الوداعی تقریبات سے قبل وارننگ

ایران نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ حملے یا جارحیت کی صورت میں فوری اور شدید ردعمل دیا جائے گا۔ یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی تیاریوں کے سلسلے میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی نے جمعرات کو سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری بیان میں امریکا اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کے خلاف غلط اندازے لگانے سے گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایران کے دشمنوں کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اور اس جوابی کارروائی کے بارے میں ابھی سے سوچ لیں جو ہماری افواج کسی بھی خطرے یا جارحیت کی صورت میں دیں گی۔

بیان میں مسلح افواج کی جانب سے تمام ایرانی شہریوں کو ان تقریبات میں شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ قومی اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنازے کی تقریبات میں شرکت کریں۔

اس سے قبل بدھ کو ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی اسی نوعیت کا ایک سخت بیان جاری کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام یا قیادت کو کسی بھی خطرے کی صورت میں تہران فوری اور بھرپور جواب دے گا۔

عباس عراقچی کا یہ بیان اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی اس دھمکی کے بعد سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی اسرائیل کے نشانے پر ہیں۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے سابق سپریم لیڈر کی آخری رسومات کی تقریبات کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی جنازہ بردار گاڑی کی پہلی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے۔

اس خصوصی جنازہ بردار گاڑی کو ’روضۂ امام رضا‘ کے نقش سے آراستہ کیا گیا ہے۔ الوداعی تقریبات کے اختتام پر 9 جولائی کو سابق سپریم لیڈر کو ان کے آبائی شہر مشہد میں ’روضۂ امام رضا‘ میں ہی سپردِ خاک کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای امریکا اور اسرائیل کے 28 فروری کو ایران پر فضائی حملوں میں شہید ہوئے تھے۔

ان کی آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی کو تہران سے ہوگا، جب کہ مشہد میں ان کی تدفین کے ساتھ یہ سلسلہ اختتام پذیر ہوجائے گا۔ اس دوران ایران کے مقدس شہر قُم اور عراق میں بھی مختلف تعزیتی اور یادگاری تقریبات منعقد کی جائیں گی۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق ان تقریبات کے دوران ملک بھر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے بھی بدھ کو اعلان کیا ہے کہ تہران، مشہد سمیت کئی شہروں کی فضائی حدود میں عارضی پابندیاں نافذ کی جائیں گی تاکہ سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles