
حکومت نے قومی بچت اسکیموں (نیشنل سیونگز) میں سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری کا اعلان کرتے ہوئے مختلف اسکیموں کی شرح منافع میں اضافہ کر دیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق، منافع کی ان نئی اور بڑھی ہوئی شرحوں کا اطلاق فوری طور پر آج سے ہی کر دیا گیا ہے۔
اس فیصلے سے ان لاکھوں عام شہریوں، پنشنرز اور بیواؤں کو فائدہ پہنچے گا جنہوں نے اپنی جمع پونجی سرکاری بچت اسکیموں میں رکھوائی ہوئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ اکاؤنٹ کی شرح منافع بڑھا دی گئی ہے جس کے تحت اب سالانہ شرح منافع کو 12.4 فیصد سے بڑھا کر 13.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
اس اسکیم کے تحت سرمایہ کاری کرنے والوں کو منافع کی ادائیگی ہر چھ ماہ بعد یعنی ششماہی بنیادوں پر کی جائے گی۔
حکام نے وضاحت کی ہے کہ اب ایک لاکھ روپے کے سرٹیفکیٹ پر پہلی ششماہی میں 6200 روپے منافع ملے گا، جبکہ اسی ایک لاکھ روپے کے سرٹیفکیٹ پر دوسری ششماہی میں منافع بڑھ کر 6800 روپے ہو جائے گا۔
اس منافع پر ٹیکس کی کٹوتی کے حوالے سے حکومت نے واضح کیا ہے کہ فائلرز سے 15 فیصد جبکہ نان فائلرز سے 30 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
اسی طرح دیگر اہم اسکیموں کے منافع میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ پر سالانہ منافع کی شرح 10 فیصد مقرر کی گئی ہے، اور اگر کوئی سرمایہ کار اسے طویل مدت کے لیے رکھتا ہے تو ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ پر پانچویں سال تک یہ شرح بڑھ کر 67 فیصد تک پہنچ جائے گی۔
اس کے علاوہ، ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر سالانہ منافع 12.24 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں معاشرے کے معذور، بزرگ اور شہدا کے خاندانوں کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہے، جس کے تحت بہبود سیونگ، پنشنرز اور شہدا فیملی سرٹیفکیٹ پر منافع کی شرح 13.20 فیصد مقرر کر دی گئی ہے تاکہ ان طبقات کو بہتر مالی سہارا مل سکے۔