
الجزیرہ کی ایک نئی دستاویزی فلم نے اسرائیلی حراستی مراکز میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ جنسی تشدد اور ریپ کے سنگین الزامات سامنے لا کر بین الاقوامی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ فلم میں متعدد سابق قیدیوں کی گواہیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حراست میں فلسطینیوں کے ساتھ منظم طور پر بدسلوکی اور جنسی تشدد کے واقعات پیش آئے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 10 اپریل 2024 کا دن، جو عیدالفطر کی تعطیلات اور رمضان کا اختتام تھا، ایک ایسے واقعے سے جڑا ہوا ہے جسے ایک سابق قیدی محمد الباقری نے انتہائی دردناک انداز میں بیان کیا۔ غزہ سے تعلق رکھنے والے اس سرکاری ملازم نے دعویٰ کیا کہ اسے گرفتاری سے ایک ماہ تک مسلسل مارپیٹ، تشدد اور غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ وہ ذہنی اور جسمانی اذیت کے باعث خود پر قابو بھی نہ رکھ سکا۔
اس کے مطابق اس روز اسے اسرائیلی فوجیوں نے اپنے کتوں کے ساتھ گھیر لیا۔ سابق قیدی نے بتایا کہ وہاں تقریباً بارہ فوجی موجود تھے جو اسے گھیرے ہوئے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ اہلکار اس سے نام پوچھتے تھے، اور اگر وہ “محمد” کہتا تو اس پر طنز کیا جاتا اور اسے مجبور کیا جاتا کہ وہ اپنا نام توہین آمیز انداز میں بتائے۔
محمد الباقری کے مطابق انہیں سات دیگر قیدیوں کے ساتھ رکھا گیا تھا، اور ان سب کو کپڑے اتار کر، آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر اور ہاتھ پاؤں باندھ کر شدید بے بسی کی حالت میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی حالت میں مبینہ طور پر ان کے ساتھ جنسی تشدد کیا گیا، ہم چیخ رہے تھے یا خدا، اوہ میرے خدا جبکہ اہلکار ہنستے رہے اور اس پورے عمل کی ویڈیوز بناتے رہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس دوران کتوں کو بھی استعمال کیا گیا جو اہلکاروں کے حکم پر ہم پر حملہ کرتے تھے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال تقریباً 20 سے 30 منٹ تک جاری رہی، جس کے دوران انہیں مسلسل مارپیٹ اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق یہ گواہی ان متعدد سابق قیدیوں میں سے ایک ہے جنہوں نے الجزیرہ کی دستاویزی تحقیق ”باڈیز آف ایویڈنس: اسرائیلز ڈارکسٹ ویپن“ کے لیے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔
اس تحقیق میں بین الاقوامی فوجداری عدالت، اقوام متحدہ کے ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ان مؤقف کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جن کے مطابق فلسطینی قیدیوں کے ساتھ منظم انداز میں جنسی تشدد اور ریپ کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
دستاویزی فلم میں ایک اور سابق فلسطینی قیدی کی کہانی بھی شامل ہے جسے رپورٹ میں ”جاب“ کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے تاکہ اس کی شناخت مخفی رکھی جا سکے۔ اس نے الجزیرہ کو بتایا کہ اسے بھی دورانِ حراست شدید تشدد اور مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے مطابق اسے ہاتھ پاؤں باندھ کر زمین پر لٹایا گیا اور خواتین اہلکاروں نے اس کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی تشدد کیا، جبکہ اس دوران دیگر اہلکار موجود تھے اور مبینہ طور پر اس منظر کو فلمایا بھی گیا۔
مارچ 2025 میں شائع ہونے والی اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں جس کا حوالہ دستاویزی فلم میں دیا گیا ہے، یہ شواہد سامنے آئے ہیں کہ اسرائیل 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ تشدد اور مبینہ جنسی تشدد کو ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جبکہ وہ یہ کہتے رہے کہ ان کا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی تسلسل میں، مئی کے مہینے میں اقوامِ متحدہ نے اسرائیل کو تنازعات کے علاقوں میں جنسی تشدد کرنے والوں کی ”بلیک لسٹ“ میں بھی شامل کر لیا تھا۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں جیسے کہ ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، اسرائیلی انسانی حقوق کے گروپ ’بتسیلم‘ اور فلسطینی سنٹر فار ہیومن رائٹس (پی سی ایچ آر) نے اسرائیلی افواج، بالخصوص فلسطینی قیدیوں کی نگرانی پر مامور عملے کے اندر جنسی تشدد کی بڑھتی ہوئی اور سرایت کر جانے والی ثقافت کو بے نقاب کیا ہے۔ ان قیدیوں میں سے ایک بڑی تعداد کو اسرائیل کے ’انتظامی حراست‘ کے قانون کے تحت بغیر کسی باقاعدہ جرم یا مقدمے کے گرفتار کر کے جیلوں میں بند رکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر اداروں کے بیانات بھی شامل ہیں، جن میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی اور تشدد کے مبینہ واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان تنظیموں کے مطابق بہت سے فلسطینی افراد کو اسرائیل کے انتظامی حراستی نظام کے تحت بغیر فردِ جرم کے رکھا جاتا ہے۔
الجزیرہ کی تحقیق کے مطابق اسرائیل میں اب تک کسی فوجی یا جیل اہلکار کو ان الزامات کے تحت سزا نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں جولائی 2024 کے ایک واقعے کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس میں سدی تیمان حراستی مرکز سے مبینہ ویڈیو لیک ہونے کے بعد 10 اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا تھا، تاہم بعد میں ان کے خلاف مقدمات واپس لے لیے گئے۔
اقوامِ متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر جنسی تشدد اور اذیت رسانی، بالخصوص جنسی زیادتی کا شکار ہونا بذاتِ خود ایک انتہائی ہولناک اور بے رحم عمل ہے۔ لیکن تصور کریں جب یہی عمل کسی پوری آبادی کے خلاف ایک منظم منصوبے کے تحت اتنے بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہو، تو اس کا اصل مقصد محض تشدد نہیں بلکہ ایک پوری قوم کے وجود اور ان کی نفسیات کو جڑ سے تباہ کرنا ہوتا ہے۔
اس دستاویزی فلم کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر عالمی سطح پر انسانی حقوق اور جنگی قوانین کے اطلاق پر بحث کا مرکز بن گیا ہے، جبکہ تمام فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر سخت الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔