
سابق افغان طالبان کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو ایک امریکی عدالت نے امریکی صحافی ڈیوڈ روڈے کے اغوا اور دیگر دہشت گردی کے الزامات ثابت ہونے پر بیالیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔
نیویارک کی وفاقی عدالت کی جانب سے سامنے آنے والے اس فیصلے کو عالمی میڈیا میں طالبان کی ماضی اور حال کی سرگرمیوں کے خلاف ایک انتہائی اہم بین الاقوامی عدالتی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
اس مقدمے کے دوران سابق طالبان کمانڈر نے خود پر لگے الزامات اور امریکی صحافی کے اغوا کا اعتراف کر لیا تھا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ حاجی نجیب اللہ کے حکم پر ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں نہ صرف صحافی کو نشانہ بنایا گیا بلکہ ان حملوں کے دوران امریکی فوجیوں اور ایک افغان مترجم کی ہلاکتیں بھی ہوئیں، جبکہ ملزم کا یہ پورا طرزِ عمل سفاکیت، دہشت گردی اور اغوا کیے گئے افراد پر نفسیاتی تشدد کی ایک بدترین مثال تھا۔
دورانِ تفتیش اور ٹرائل سابق طالبان کمانڈر نے خود یہ بات تسلیم کی کہ وہ یرغمال بنائے گئے افراد کو بھاری تاوان کی وصولی اور اپنے قیدی ساتھیوں کی رہائی کے لیے بطور مہرہ استعمال کرتے تھے۔
اس مقدمے کے دوران متاثرہ امریکی صحافی ڈیوڈ روڈے نے بھی عدالت کے سامنے اپنا تفصیلی بیان ریکارڈ کرایا۔
انہوں نے طالبان کی قید میں گزارے گئے ہولناک دنوں کا ذکر کرتے ہوئے اور ان کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ جو کچھ کیا گیا اور طالبان نے جو اقدامات اٹھائے، وہ سراسر ایک بزدلانہ، ظالمانہ اور غیر انسانی جرم تھا۔
قانونی اور سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس عدالتی فیصلے اور اعترافِ جرم کے بعد افغان طالبان کی انتظامیہ کی مجرمانہ شناخت عالمی سطح پر مزید واضح ہو کر سامنے آئی ہے، جس سے ان کے لیے بین الاقوامی برادری میں قبولیت حاصل کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔