
کرکٹ کے گھر کہلانے والے لارڈز میں ریکارڈ 150 واں ٹیسٹ میچ انگلینڈ نے جیت لیا ہے، جہاں میزبان انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو 115 رنز سے شکست دے کر تاریخی میدان پر اپنی جیت کو یادگار بنا دیا ہے، انگلش فاسٹ بولر گس اٹکنسن نے دوسری اننگز میں 5 وکٹیں حاصل کرکے اپنی ٹیم کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا جب کہ غیر متوازن پچ پر بلے بازوں کو مسلسل مشکلات کا سامنا رہا۔
لارڈز کے تاریخی میدان میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 140 رنز بنائے، جس میں ہیری بروک نے 56 رنز کی نمایاں اننگز کھیلی۔ نیوزی لینڈ کے کائل جیمیسن نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں۔
جواب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلی اننگز میں 113 رنز پر ڈھیر ہوگئی، جہاں اولی روبنسن نے 5 وکٹیں لے کر مہمان ٹیم کی بیٹنگ لائن کو نقصان پہنچایا۔
دوسری اننگز میں انگلینڈ نے 226 رنز بنائے۔ بین ڈکٹ کے متبادل کھلاڑی گائے نے 57 رنز اسکور کیے تاہم نیوزی لینڈ کے نیتھن اسمتھ نے 6 وکٹیں حاصل کرکے انگلش بیٹنگ کو زیادہ بڑا مجموعہ بنانے سے روک دیا۔
اس طرح نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے 254 رنز کا ہدف ملا تاہم ہدف کے تعاقب میں کیوی ٹیم چوتھے روز 55 رنز 5 کھلاڑی آؤٹ کے ساتھ میدان میں اتری اور پوری ٹیم 138 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ گلین فلپس نے مزاحمت کرتے ہوئے 44 رنز بنائے لیکن دوسرے اینڈ کوئی بھی کھلاڑی ان کا ساتھ نہ دے سکا۔
اس طرح انگلینڈ نے لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں نیوزی لینڈ کو 115 رنز سے شکست دے دی جب کہ میچ کا فیصلہ 4 روز میں ہوا۔
دن کے آغاز پر جوش ٹنگ نے ٹام بلنڈل کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا، جس کے بعد انگلینڈ نے مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ ڈیون کونوے اور گلین فلپس نے 53 رنز کی شراکت قائم کی لیکن کونوے کے آؤٹ ہوتے ہی نیوزی لینڈ کی امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔
گس اٹکنسن نے بعد ازاں نیتھن اسمتھ، کائل جیمیسن اور میٹ ہنری کی وکٹیں حاصل کرکے نیوزی لینڈ کی اننگز کا خاتمہ کیا اور اپنی 5 وکٹیں مکمل کیں۔
میچ کے دوران پچ پر غیر متوقع باؤنس اور مسلسل حرکت دیکھنے میں آئی، جس کے باعث بلے بازوں کے لیے کریز پر قیام مشکل ثابت ہوا۔ میچ میں مجموعی طور پر 40 میں سے 24 وکٹیں بولڈ یا ایل بی ڈبلیو ہوئیں جب کہ کسی بھی کپتان نے اسپنر کا استعمال نہیں کیا۔