گلگت بلتستان انتخابات کا پہلا مکمل نتیجہ آگیا، پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب


گلگت بلتستان اسمبلی کے چوتھے عام انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل اتوار کو شام پانچ بجے مکمل ہوگیا۔ جس کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے کا سلسلہ جاری ہے۔ غیرحتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق جی بی اے 7 اسکردو ون میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سید توقیر مہدی شاہ امیدوار کامیاب ہوگئے ہیں جب کہ ان کی جیت پر جیالے جشن منارہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی شاہ نے 4337 ووٹ لیے جب کہ استحکام پاکستان کے راجہ جلال 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
گلگت بلتستان میں اتوار کے روز ہونے والے انتخابات میں 24 حلقوں پر 396 امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد مختلف پولنگ اسٹیشنوں سے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
گلگت بلتستان کے اب تک موصول غیرحتمی اور غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی اس وقت 6 نشستوں پر آگے ہے۔ گلگت، نگر، اسکردو اور شگر میں پیپلزپارٹی کا زور ہے جب کہ گھانچے، غذر اور دیامر کی پانچ نشستوں پر آزاد امیدوار آگے نظر آرہے ہیں۔
گلگت، غذر اور گھانچے کی تین نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے۔ آج نیوز تمام 24 حلقوں سے موصول ہونے والے نتائج کو سب سے پہلے اپنے ناظرین سے شیئر کررہا ہے۔
اب تک موصول ہونے والے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج
حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1 کے 80 پولنگ اسٹیشنز میں سے 28 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 3600 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد شفیق الدین 2300 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 کے 91 پولنگ اسٹیشنز میں سے 27 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان 4129 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 2695 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3 کے 82 پولنگ اسٹیشنز میں سے 42 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد اقبال 5000 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار سید سہیل عباس 3867 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 4 نگر 1 کے 53 پولنگ اسٹیشنز میں سے 37 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 5072 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 4547 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 5 نگر 2 کے 32 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار جہانگیر شاہ 814 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جاوید علی منوا 629 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ کے 88 پولنگ اسٹیشنز میں سے 12 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار نیک نام کریم 937 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار راجہ نظیم الامین 478 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 7 اسکردو 1 کے تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4337 ووٹ لے کر کامیاب جب کہ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال حسین خان 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔
حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2 کے 70 پولنگ اسٹیشنز میں سے 37 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 6190 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے محمد کاظم 5978 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 9 اسکردو 3 کے 54 پولنگ اسٹیشنز میں سے 6 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 967 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 806 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 10 اسکردو 4 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 9 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مشتاق حسین 1059 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ناصر علی خان 947 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 11 کھرمنگ کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 10 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 1255 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شجاعت حسین 831 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 12 شگر کے 71 پولنگ اسٹیشنز میں سے 10 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 1541 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے طاہر شگری 875 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 13 استور 1 کے 57 پولنگ اسٹیشنز میں سے 36 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4368 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 14 استور 2 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 24 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا محمد فاروق 3390 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق لون 3383 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 15 دیامر 1 کے 51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار محمد دلپزیر 1274 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ولی الرحمان 805 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 16 دیامر 2 کے 42 پولنگ اسٹیشنز میں سے 7 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے عتیق اللہ 1225 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم ليگ (ن) کے محمد انور 867 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 17 دیامر 3 کے 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 6 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 1306 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار عبدالکریم 803 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4 کے 32 پولنگ اسٹیشنز میں سے 5 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان 1256 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان 1162 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 19 غذر 1 کے 78 پولنگ اسٹیشنز میں سے 30 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ظفر محمد 3470 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار نواز خان ناجی 2678 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 20 غذر 2 کے 69 پولنگ اسٹیشنز میں سے 20 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار صفدر علی شیرازی 1530 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عبدالجہاں 1504 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 21 غذر 3 کے 60 پولنگ اسٹیشنز میں سے 14 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار امان علی 2040 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جب کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے غلام محمد 1788 ووٹ لے کر دوسرے اور پیپلزپارٹی کے محمد ایوب شاہ 1126 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 22 گھانچے 1 کے 58 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 1209 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 945 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 23 گھانچے 2 کے 50 پولنگ اسٹیشنز میں سے 9 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار انور علی 2474 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جب کہ آزاد امیدوار عبد الحمید 344 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔
حلقہ جی بی اے 24 گھانچے 3 کے 46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 26 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 4419 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 2830 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات نظر آئے۔ صرف گلگت کے تین حلقوں میں ساڑھے 3 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر خصوصی نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا اور ووٹنگ کے عمل کا جائزہ لیا۔
انتخابی مہم کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں نے بھرپور سرگرمیاں جاری رکھیں، جن میں جلسے، عوامی رابطہ مہم، وعدے اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی شامل رہا۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے ان انتخابات میں سب سے زیادہ یعنی 23 امیدوار کھڑے کیے ہیں، اس کے بعد دوسرے نمبر پر مسلم لیگ ن ہے جس کے 22 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ 19 آزاد امیدوار بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی نے 15، پاکستان نظریاتی پارٹی نے 10 حلقوں سے امیدوار میدان میں اتارے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) اور اسلامی تحریک پاکستان کے 9، 9 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، جب کہ مجلس وحدت مسلمین کے 7 امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے 6،6 امیدوار نامزد کیے ہیں جبکہ عوامی ورکرز پارٹی کے 4 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔
انتخابات میں مجموعی طور پر 266 آزاد امیدوار بھی کھڑے ہیں۔ اس کے علاوہ 8 خواتین امیدوار بھی مختلف حلقوں میں انتخابی دوڑ کا حصہ ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے یہ چوتھے عام انتخابات ہیں، جنہیں خطے میں سیاسی استحکام اور عوامی نمائندگی کے تعین کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles