
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ قطری وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق بات چیت میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز اور ایرانی فنڈز سمیت اہم معاملات زیر غور ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی دوحہ میں قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، جہاں امریکا ایران ممکنہ معاہدے پر تفصیلی بات چیت جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں آبنائے ہرمز کو کھولنے، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کی ممکنہ رہائی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مذاکرات کا محور امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ اور خطے میں جاری کشیدگی کا خاتمہ ہے، جب کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت میں آبنائے ہرمز، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر اور جنگ کے بعد کی ممکنہ سفارتی پیش رفت جیسے اہم معاملات زیرِ بحث ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی مرکزی بینک کے گورنر بھی وفد میں شامل ہیں، جو ممکنہ معاہدے کے تحت منجمد ایرانی فنڈز کی رہائی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا سفارت کاری کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن موقع دینا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق فریقین کے درمیان بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے اور ایک قابل عمل فریم ورک زیر غور ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ معاہدہ یا تو اہم اور مؤثر ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ کئی معاملات پر اتفاق رائے سامنے آیا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ فوری طور پر طے پا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجوزہ مفاہمتی یادداشت 14 نکات پر مشتمل ہے جس میں جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات شامل ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ابتدائی فریم ورک پر اتفاق ہو جاتا ہے تو جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی مذاکرات آئندہ 60 روز میں کیے جا سکتے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کو ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امید پیدا ہوئی ہے۔