‘کیوبا پر دباؤ اور دھمکیوں کا سلسلہ بند کیا جائے’: چین کا امریکا کو انتباہ

چین نے امریکی عدالت کی جانب سےکیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے بعد واشنگٹن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کیوبا کے خلاف دھمکیوں، پابندیوں اور عدالتی دباؤ کی پالیسی بند کرنا ہوگی۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے جمعرات کو پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا کو کیوبا کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں بند کرنا ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیجنگ نے کسی بھی بیرونی مداخلت کے خلاف ہوانا کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور عدالتی نظام کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔

چین کی جانب سے یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی عدالت نے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو اور دیگر پانچ افراد پر 1996 میں دو طیارے مار گرانے اور امریکی شہریوں کے قتل کی سازش کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ طیارے کیوبا مخالف تنظیم کے زیرِ استعمال تھے، جو فلوریڈا اور کیوبا کے درمیان پروازیں چلارہی تھی۔

اس طیاروں پر حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے تین امریکی شہری تھے۔ راؤل کاسترو اس وقت کیوبا کی مسلح افواج کے سربراہ تھے۔ یہ معاملہ طویل عرصے سے واشنگٹن اور ہوانا کے درمیان کشیدگی کا باعث رہا ہے۔

دوسری جانب کیوبا کے موجودہ صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ایسا سیاسی ہتھکنڈا قرار دیا ہے ۔

چینی وزارت خارجہ نے بھی امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن پابندیوں اور عدالتی نظام کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چین کیوبا کی خودمختاری، وقار اور داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کے خلاف اس کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کیوبا کے توانائی، دفاع، مالیاتی اور سکیورٹی شعبوں سے وابستہ حکام پر پابندیاں لگائی گئیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے کیوبا پر تیل کی فراہمی سمیت دیگر نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں، جس کے باعث ملک میں بجلی کی بندش اور خوراک کی قلت میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ 2014 میں چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ کیوبا کے بعد سے دونوں ممالک کے سفارتی اور تجارتی تعلقات میں نمایاں وسعت آئی ہے۔ کیوبا نے 2018 میں چین کے عالمی منصوبے ’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو‘ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی تھی، جس کے تحت چین نے جزیرے نما ملک میں کئی اہم انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles