ایرانی سپریم لیڈر نے افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار کردیا

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ اس پیش رفت کو امریکا کے اہم مطالبات میں سے ایک پر تہران کے سخت مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح ہدایت دی ہے کہ قریباً ہتھیاروں کے درجے تک افزودہ کیا گیا یورینیم ایران سے باہر منتقل نہ کیا جائے۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ اگر افزودہ یورینیم بیرونِ ملک بھیجا گیا تو ایران مستقبل میں امریکا اور اسرائیل کے ممکنہ حملوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہوجائے گا۔

رپورٹ کے مطابق اس فیصلے سے امریکا کے ساتھ جاری امن مذاکرات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں ایران کے افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کی شق شامل ہوگی۔

امریکا، اسرائیل اور مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کرتے رہے ہیں جب کہ ایران ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔ مغربی ممالک ایران کی جانب سے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کرنے کو بھی تشویش کی وجہ قرار دیتے ہیں کیوں کہ ہتھیار بنانے کے لیے درکار سطح 90 فیصد سمجھی جاتی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جنگ اس وقت تک ختم تصور نہیں کی جائے گی، جب تک ایران سے افزودہ یورینیم نہ ہٹا دیا جائے، ایران پراکسی گروہوں کی حمایت ختم نہ کرے اور اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا خاتمہ نہ ہوجائے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق تہران میں اعلیٰ حکام کو خدشہ ہے کہ جنگ بندی صرف ایک وقتی حکمت عملی ہوسکتی ہے اور امریکا دوبارہ فضائی حملے کرسکتا ہے۔ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی کہا ہے کہ دشمن کی کھلی اور خفیہ سرگرمیاں نئے حملوں کی تیاری ظاہر کرتی ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران امن معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو امریکا مزید کارروائی کے لیے تیار ہے تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ واشنگٹن چند روز انتظار بھی کرسکتا ہے۔

ایرانی ذرائع کے مطابق دونوں فریق بعض معاملات پر اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کے ذخائر اور ایران کے حق افزودگی کو تسلیم کرنے جیسے معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایران اس بات پر زور دے رہا ہے کہ پہلے جنگ کے مستقل خاتمے اور مستقبل میں امریکا و اسرائیل کی جانب سے حملے نہ کرنے کی ضمانت دی جائے، جس کے بعد ہی جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات ممکن ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل ایران 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا نصف حصہ بیرونِ ملک بھیجنے پر آمادہ تھا تاہم ٹرمپ کی جانب سے بار بار حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران کا مؤقف تبدیل ہوگیا۔

ایرانی حکام نے بتایا کہ معاملے کے حل کے لیے بعض قابلِ عمل تجاویز زیر غور ہیں، جن میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں یورینیم کے ذخائر کو کم درجے تک dilute کرنا بھی شامل ہے۔

آئی اے ای اے کے مطابق جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کے وقت ایران کے پاس 60 فیصد افزودہ 440.9 کلوگرام یورینیم موجود تھا تاہم اس میں سے کتنا ذخیرہ محفوظ رہا، اس بارے میں صورت حال واضح نہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles