
چین کی کیپیٹل نارمل یونیورسٹی میں پاکستان اور چین کی سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون کے فروغ کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی، جس سے رکنِ قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات کا مستقبل نوجوانوں، جدت اور عوامی روابط سے جڑا ہوا ہے۔
چین کی کیپیٹل نارمل یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکنِ قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی صرف وزارتوں اور بورڈ رومز تک محدود نہیں بلکہ نوجوان نسل اس تعلق کو نئی سمت دے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہی نوجوان ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین نے تعلیم، جدت اور نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرکے دنیا کے سامنے ترقی کی نئی مثال قائم کی۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ چین کی جانب سے 80 کروڑ افراد کو غربت سے نکالنا جدید تاریخ کی عظیم کامیابی ہے جبکہ چین آج ہائی اسپیڈ ریل، قابلِ تجدید توانائی، ای کامرس، مصنوعی ذہانت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں عالمی رہنما بن چکا ہے۔
انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ایشیا کے مستقبل کے لیے پاکستان اور چین کی شراکت داری کا اہم ترین منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پاکستان میں 45 ارب ڈالر سے زائد چینی سرمایہ کاری آئی جبکہ قومی گرڈ میں 8 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی شامل ہونے سے توانائی بحران میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملتان سکھر موٹروے، گوادر پورٹ اور دیگر ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس نے پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا، تاہم سی پیک کی اصل کامیابی سڑکوں اور پاور پلانٹس سے زیادہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے سے جڑی ہے۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا کہ پاکستانی اور چینی طلبہ مشترکہ طور پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی حل تیار کرسکتے ہیں۔ انہوں نے گوادر کو صرف بندرگاہ کے بجائے عالمی یوتھ انوویشن ہب بنانے کی تجویز بھی پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ڈیجیٹل فری لانسنگ کمیونٹیز میں شامل ہوچکا ہے اور ہزاروں نوجوان ٹیکنالوجی کے ذریعے عالمی سطح پر خدمات فراہم کررہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹس حالیہ برسوں میں اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ ملک کا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بھی مسلسل ترقی کررہا ہے۔
تقریب سے خطاب میں انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کے اگلے مرحلے کے لیے پانچ بڑے نوجوانوں پر مبنی منصوبے بھی تجویز کیے۔ ان میں پاکستان چین یوتھ انوویشن فنڈ کا قیام، پاکستانی جامعات میں چینی اداروں سے منسلک اے آئی اور ٹیکنالوجی ایکسچینج سینٹرز کا قیام، ماحولیاتی تعاون، سولر انرجی، واٹر مینجمنٹ اور کلائمیٹ ریزیلینس منصوبوں پر مشترکہ کام شامل ہے۔
انہوں نے پاکستانی اور چینی نوجوانوں کے درمیان فلم، پوڈکاسٹ، ڈاکیومنٹری اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کے مشترکہ منصوبوں پر بھی زور دیا جبکہ گوادر کو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور چین کو جوڑنے والا علاقائی یوتھ گیٹ وے بنانے کی تجویز پیش کی۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط ترین پل اسٹیل یا کنکریٹ نہیں بلکہ نوجوان نسلوں کے درمیان اعتماد اور سمجھ بوجھ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت جنگوں، معاشی عدم استحکام، پولرائزیشن اور موسمیاتی بحرانوں کا سامنا کررہی ہے، ایسے میں نوجوانوں کی سفارتکاری وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ امن کے معمار بنتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کے رہنماؤں نے پاک چین دوستی کی بنیاد رکھی جبکہ اب نئی نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تعلق کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین کی دوستی صرف سفارتکاری تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جدت، عوامی روابط اور نوجوانوں کی شراکت سے مزید مضبوط ہوگی۔ ان کے مطابق پاکستانی اور چینی نوجوان مل کر ایشیا اور دنیا کے لیے زیادہ پرامن، مربوط اور ترقی یافتہ مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں۔