
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بڑا دھچکا، اسرائیل کے دو سابق وزرائے اعظم، نفتالی بینیٹ اور یائیر لیپڈ نے اپنی سیاسی جماعتوں کو ضم کر کے نیا انتخابی اتحاد بنانے کا اعلان کر دیا۔
اسرائیل کے سابق وزرائے اعظم نفتالی بینیٹ اور یائر لاپیڈ نے اتوار کے روز اپنی سیاسی جماعتوں کے انضمام کا اعلان کرتے ہوئے ایک نئی جماعت ’’ٹوگیدر‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے مطابق یہ اتحاد ایک ایسی اپوزیشن کو یکجا کرنے کی کوشش ہے جو مختلف نظریات رکھنے کے باوجود نیتن یاہو کی مخالفت پر متفق ہے۔ بینیٹ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ نئی جماعت کی قیادت وہ خود کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 30 سال کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ نیتن یاہو سے علیحدگی اختیار کی جائے، اسرائیل کو اپنا رخ بدلنا ہو گا۔
اتحاد کا بنیادی مقصد اکتوبر 2026 میں ہونے والے عام انتخابات میں نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کو شکست دینا ہے۔
مشترکہ ٹی وی بیان میں بینیٹ کا کہنا تھا کہ وہ لاپیڈ کے ساتھ مل کر اپنے ملک کے لیے ایک’’اہم اور محب وطن قدم‘‘ اٹھا رہے ہیں۔ اس موقع پر لاپیڈ نے کہا کہ اگرچہ بینیٹ دائیں بازو کے سیاستدان ہیں، تاہم وہ دیانتدار ہیں اور دونوں کے درمیان اعتماد موجود ہے۔
لاپیڈ کے مطابق اس اتحاد کا مقصد اپوزیشن کے اندرونی اختلافات کا خاتمہ کر کے تمام توجہ آئندہ اہم انتخابات میں کامیابی پر مرکوز کرنا ہے۔
بینیٹ نے اعلان کیا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے قبل ہونے والی سیکیورٹی ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے قومی کمیشن قائم کریں گے، جسے موجودہ نیتن یاہو حکومت مسترد کر چکی ہے۔