وفاقی آئینی عدالت نے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے کا حکومتی اختیار بحال کردیا


وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں حکومت کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن رولز کی اُن دفعات کو بحال کر دیا ہے جنہیں پہلے کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔
وفاقی آئینی عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب حکومت کے پاس شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے اور ان کے پاسپورٹ غیر فعال کرنے کا قانونی اختیار دوبارہ واپس آگیا ہے۔
عدالت نے اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے کو معطل کرتے ہوئے حکومت کی اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔
پیر کو کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ نے پاسپورٹ اینڈ امیگریشن کے رول نمبر تین اور دس کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جس کے خلاف حکومت نے اپیل دائر کی ہے۔
انہوں نے ایک مخصوص کیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فرحان علی نامی ایک شہری غیر قانونی طور پر ایران گیا تھا جہاں سے اسے ڈی پورٹ کر دیا گیا، اسی غیر قانونی اقدام کی بنیاد پر اس کا نام پی سی ایل یعنی پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے دلچسپ اور اہم سوالات اٹھائے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یہ ڈنکی لگا کر یعنی غیر قانونی طریقے سے سرحد عبور کر کے جانے والوں کا کیس ہے؟ انہوں نے مزید پوچھا کہ کیا یہ شخص خود باہر جانے کی کوشش کر رہا تھا یا لوگوں سے پیسے لے کر انہیں اٹلی بھیجنے کے کام میں ملوث تھا؟

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ایف آئی اے سے سوال کیا کہ اس معاملے میں اب تک کیا تفتیش مکمل کی گئی ہے؟
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے فی الحال ایف آئی اے سے تازہ معلومات حاصل نہیں کی گئی ہیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کا حکم جاری کیا اور تمام فریقین کو نوٹسز بھیجتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles