
امریکی فوج کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی منصوبہ بندی سامنے آئی ہے، جس کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے کی صورت میں اہم آبی گزرگاہوں میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکا آبنائے ہرمز، جنوبی خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان کے اطراف ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے منصوبے تیار کر رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ کارروائیاں اس صورت میں کی جائیں گی اگر موجودہ جنگ بندی ختم ہو جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ممکنہ حملوں میں ایران کی تیز رفتار چھوٹی کشتیوں، بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور دیگر غیر روایتی عسکری وسائل کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران ان وسائل کے ذریعے اہم آبی گزرگاہوں کو بند کرنے اور امریکا پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھی تعینات کر دیا گیا ہے، جو گزشتہ 20 برسوں میں اس خطے میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق نِمٹز کلاس طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش ان کے دائرہ اختیار میں پہنچ چکا ہے۔
2009 میں کمیشن ہونے والا یہ جہاز امریکی بحری بیڑے کے جدید ترین جہازوں میں شمار ہوتا ہے، جو 100 ہزار ٹن سے زائد وزن رکھتا ہے اور 80 سے زائد طیارے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ اس پر 5 ہزار سے زائد عملہ تعینات ہوتا ہے۔
ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ فوج اپنی تعیناتیوں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق تفصیلات شیئر نہیں کرتی تاکہ سکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔